ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
میں رکھ لیں، اس کے بعد جو اقدام چاہیں کریں۔ مولانا نیر ریانی (بنگلور) الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے الرسالہ کے مشن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کے طریقہ سے آپ کو احتراز کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہمارے لئے تنقید اور بے تنقید میں انتخاب نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں انتخاب ہے۔ اگر آپ تنقید کا عمل بند کر دیں تو اس کے بعد جو صورت حال قائم ہوگی وہ سادہ طور پر تنقید حالت میں نہیں ہے بلکہ ذہنی جمود کی حالت ہے۔ اور ذہنی جمود کسی قوم کے لئے موت ہے۔ تبلیغی جماعت کے ایک عالم سے میں نے کہا کہ آپ لوگ جب بیعت لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کی یہ بیعت براہ راست مولانا الیاس صاحب سے ہو رہی ہے۔ حالاں کہ شرعی اعتبار سے یہ ایک بے اصل بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو سلسلہ کا معاملہ ہے، اور سلسلہ اسناد تو حدیث کی روایت میں بھی پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اسناد میں خارجی سلسلہ ہوتا ہے۔ اس پر باطنی سلسلہ کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ ایک اور تبلیغی عالم نے کہا کہ سوویت یونین امریکہ کی اسلام دشمنی کے خلاف چیک کا کام کرتا تھا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یہ روک ختم ہوگیا۔ یہ صورت حال عالم اسلام کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ مسجد کی تقریروں میں کہتے ہیں کہ چیزوں سے نہیں ہوتا، خدا سے ہوتا ہے اور مسجد کے باہر یہ فقرہ ہے ہیں کہ خدا سے نہیں ہوتا روس سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی تمام باتیں ذہنی جمود کی پیدا وار ہیں۔ ۲۸ اپریل ۱۹۹۲ کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ محض فکری تحریک چلا رہے ہیں۔ آپ نے اپنی فکر کے تحت کوئی عملی ڈھانچہ نہیں بنایا۔ ایسی حالت میں یہ مشن آپ کے بعد بالکل ختم ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ خود فکر کی بنیاد پر عملی ڈھانچہ بنانے کا ابھی وقت نہیں آیا۔ کیوں کہ ابھی ضروری تعداد میں فکری انقلاب والے افراد حاصل نہیں ہوئے۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو موجودہ زمانہ کی تحریکوں میں نظر آتا ہے۔ مگر وہ مطلوب نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader