ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہے، خود اپنی فکر کی بنیاد پر عملی ڈھانچہ کی تشکیل۔ دوسرا ہے، مردجہ ذوق سے موافقت کر کے ڈھانچہ بناتنا۔ موجودہ زمانہ میں جن تحریکوں کا یہاں آپ ڈھانچہ دیکھ رہے ہیں وہ سب دوسری نوعیت کی مثال ہیں۔ مثلاً ندوۃ العلماء کی حیثیت ابتداً تحریک کی تھی مگر آج وہ صرف ندوۃ المدارس کی سطح پر قائم ہے۔ تبلیغی جماعت نے خانقاہی نظام سے مصالحت کر کے ایک ڈھانچہ بنایا ہے، جس کو آپ متحرک خانقاہ کہہ سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا موجودہ ڈھانچہ صرف جماعت قومی کی سطح پر قائم ہے۔ اس کی قدیم فکری حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ وغیرہ۔ ۲۹ اپریل ۱۹۹۲ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بے شمار اصلاحی تحریکیں چل رہی ہیں۔ مگر نتیجہ صفر ہے۔ مزید یہ کہ ساری دنیا میں مسلمان ہی سب سے زیادہ قوموں کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں آخر اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ پر میں نے بھی کافی سوچا ہے۔ آخر کار جو بات میری سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے جو ہر انسانیت کھو دیا ہے۔ ہر قوم پر بالآخر زوال آتا ہے۔ اور زوال کی آخری علامت یہ ہے کہ اس کے افراد میں انسانی اوصاف باقی نہ رہیں۔ موجودہ مسلمانوں کا کیس میرے نزدیک یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والے تمام مصلحین کی مشترک غلطی یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی اس حالت زوال کو نہیں سمجھا۔ ہر شخص اٹھ کر مسلمانوں کے درمیان "حدرخوانى" کرنے لگا۔ اس وقت زیادہ ضرورت یہ تھی کہ غیر مسلموں میں کام کر کے مسلمانوں کے پرانے خون میں نیا خون شامل کیا جائے۔ مگر اس راز کو نہ کسی نے سمجھا اور نہ کسی نے اس پر عمل کیا۔ مولانا الیاس صاحب اور ان کی تبلیغی جماعت کی ساری کوشش یہ ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کی جائے اور پھر ان کے ذریعہ سے غیر مسلموں میں دین پہنچایا جائے۔ حالانکہ زیادہ صحیح تر بہت یہ تھی کہ غیر مسلموں میں کام کر کے ان کی ایک تعداد کو مسلمانوں میں شامل کیا جائے۔ تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر ہم مسلسل یہ منظر دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں میں بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں مگر مثبت معنوں میں وہ کوئی حقیقی نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader