Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

جدہ کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی؛ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں کے مصنف ہیں۔ دونوں زبانوں میں ان کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ وہ اسلامی فنون سے متعلق مختلف کتابوں اور ریسرچ کی تفصیلات بتاتے رہے۔ اس کو سن کر میرے اندر سے ایک ٹھنڈی آہ نکلی۔ میں نے کہا: کسی کی پہنچ فنی موضوعات تک ہے، کسی کی پہنچ علمی موضوعات تک اور کسی کی پہنچ قومی موضوعات تک۔ مگر کوئی نہیں جس کی پہنچ ربانی موضوعات تک ہو۔ یکم مئی ۱۹۹۲ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اسلام کا زبردست چرچا ہے ۔ بے شمار مجلات مختلف زبانوں میں نکل رہے ہیں۔ ان گنت کتابیں لکھی اور چھاپی جا رہی ہیں۔ ہرطرف جلسوں اور کانفرنسوں کا ہنگامہ نظر آتا ہے۔ مدرسوں اور مسجدوں کی رونق میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ وغیرہ ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قومی ظاہر (phenomenon) ہے نہ کہ فی الواقع کوئی دینی ظاہر ہ ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان سرگرمیوں میں قومی جذبات تو خوب پائے جاتے ہیں مگر حقیقی دینی جذبات کا کوئی وجود نہیں ۔ ان میں قومی فخر ، قومی شکایت ، قومی مطالبات ، قومی مفادات، قومی رسوم ، قومی تشخص ، قومی مسائل ، قومی تہذیب جیسی چیزیں تو نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں وہی چیز حذف ہے جو دین کا اصل مغز اور خلاصہ ہے، یعنی خوف خدا اور فکر آخرت ۔۔ یہی دین کی اصل ہے مگر اسی کا ان سرگرمیوں میں کہیں وجود نہیں ، اور اگر کہیں ہے تو محض ضمنی اور رسمی طور پر ، جس کا ہونا بھی ویسا ہی ہے جیسا اس کا نہ ہونا۔ ۲ مئی ۱۹۹۲ آجکل مسلم پریس میں امریکہ کے "نیو ورلڈ آرڈر" کا بہت چرچا ہے ۔ تمام مسلم دانشور اس کے خلاف برہم ہیں۔ اس کو صلیبی ورلڈ آرڈر اور صہیونی ورلڈ آرڈر کا نام دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے ، اور یہ سب کچھ وہ اسی اسلام دشمنی میں کر رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page