ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ سب نہایت سطحی باتیں ہیں۔ امریکہ کے سامنے اسلام کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ خود اپنا مسئلہ ہے۔ جس طرح تمام قوموں اور حکومتوں کے سامنے اپنا مسئلہ ہوتا ہے۔ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک نہیں، البتہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امریکہ اپنے مفادات کا دوست نمبر ایک ہے۔ ۳ مئی ۱۹۹۲ ایک صاحب جو دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہندوؤں کے معاملہ میں صبر و اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہ ہندو مشرک ہیں۔ اور مشرکوں سے قرآن میں جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ توبہ میں فرمایا : قاتلوا المشرکین (التوبہ ۳۶) میں نے کہا کہ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ اس سے پہلے مکی دور میں یہی مشرکین تھے مگر اس وقت ان کی ظلم و زیادتی کے باوجود ان سے لڑنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ مسلسل صبر کی تلقین کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہجرت سے پہلے مکی دور کے مشرکوں کا حکم کچھ اور تھا اور ہجرت کے بعد مدنی دور کے مشرکوں کا حکم کچھ اور۔ ایسی حالت میں یہ متعین کرنا ہوگا کہ موجودہ ہندوؤں کی شرعی حیثیت مکی دور کے مشرکین جیسی ہے یا مدنی دور کے مشرکین جیسی۔ میرے نزدیک یہاں کے ہندوؤں کی حیثیت مکی دور کے مشرکین جیسی ہے۔ ان سے وہ سلوک کرنا ہے جو دعوت کے مرحلہ میں مدعو قوم کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یعنی یک طرفہ صبر کرتے ہوئے انھیں دعوت پہنچانا۔ ۴ مئی ۱۹۹۲ قرآن میں ہے کہ ان واقعات میں متوسمین کے لئے نشانیاں ہیں۔ (الحجر ۷۵) متوسمین سے مراد معتبرین ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو عبرت کی نگاہ رکھتے ہوں۔ اور ظاہری علامتوں کو دیکھ کر باطنی سبق اخذ کر سکیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچان لیتے ہیں (اِنّ لله عزوجل عباداً يعرفون الناس بالتوسم) عبد اللہ ابن عباسؓ کا قول ہے کہ جب بھی کوئی شخص مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کے سوال سے پہچان لیتا ہوں کہ وہ صاحب تفقہ ہے یا تفقہ کی صلاحیت سے خالی ہے اور اس کی غرض کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader