Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے الرسالہ کی تعریف کی ۔ میں نے پوچھا کہ اس کی کیا چیز آپ کو پسند آئی ۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑا بڑا سبق نکالا جاتا ہے۔ میں نے انھیں سورہ الحجر کی مذکورہ آیت بتائی۔ اور کہا کہ الرسالہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ کوئی ادبی کتب نہیں ہے ۔ وہ آپ کے اندر توہم کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ۵ مئی ۱۹۹۲ مراد آباد کے دو صاحب ملاقات کے لئے آئے ۔ ندیم رائی صاحب ، منصور احمد صاحب ۔ انھوں نے بتایا کہ مراد آباد کا ایک محلہ اصالت پورہ ہے۔ یہاں زیادہ تر انصاری مسلمان رہتے ہیں۔ ایک عرصہ سے قریشی برادری کے کچھ لوگ یہاں ٹھیلہ پر پھل بیچتے تھے ۔ بے روزگاری کی وجہ سے اس رمضان میں کچھ مقامی انصاریوں نے بھی ٹھیلہ لے کر پھل بیچنا شروع کیا۔ یہ چیز قریشی تھیلہ والوں کو ناگوار ہوئی ۔ انھوں نے انصاری تھیلہ والوں سے روک ٹوک کی ۔ جمعتہ الوداع (۳ اپریل ۱۹۹۲) کو ایک انصاری تھیلہ والا ایک قریشی تھیلہ والے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ قریشی نے ہٹانے کے لئے کہا۔ اس نے نہیں ہٹایا۔ اس پر تکرار ہوئی یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی۔ پہلے دو شخص کی لڑائی تھی۔ اس کے بعد وہ انصاری اور قریشی کی لڑائی بن گئی۔ پتھر نہیں ملے تو پھلوں سے مارنا شروع کیا۔ ساری سڑک پھلوں سے پٹ گئی۔ کم از کم پچاس ہزار روپیہ کا نقصان ہوا۔ اس دوران محلہ کے کچھ لوگوں نے اپنے گھروں سے فائرنگ بھی کی۔ اب تک اس کا ٹنشن باقی ہے۔ مسلم اور غیر مسلم جھگڑوں میں مسلم رہنماؤں نے برداشت کا اصول نہیں بتایا۔ بلکہ ٹکراؤ کا طریقہ بتایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدم تحمل مسلمانوں کا عام مزاج بن گیا۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ : و احیا نا علی بکر اخینا اذا لم نجد الا اخانا امریکہ کے موجودہ صدر جارج بش نے ۱۱ ستمبر ۱۹۹۰ کو اپنی ایک تقریر میں " نیوورلڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page