Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

آرڈر کا لفظ استعمال کیا۔ ان کی تقریر کا انداز یہ بتا رہا تھا گویا کہ وہ اعلان کر رہے ہیں کہ آج ہم دنیا کے سپر پاور ہیں اور ہم امریکی تصور کے مطابق ، دنیا کا نیا نقشہ بنائیں گے۔ اس کے بعد خاص طور پر مسلم دنیا میں اس کے خلاف زیر دست رد عمل شروع ہوا۔ ہمیں پاکستان سے ایک کتاب موصول ہوئی ہے جس کا نام’ نیا عالمی نظام اور پاکستان‘ ہے۔ ۳۵۱ صفحہ کی پوری کتاب گویا یا اس کے خلاف احتجاج ہے۔ میرا ذہن اس سے مختلف ہے۔ لوگ جارج بش کی تقریر پر غصہ ہو رہے ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انھیں ابراہم لنکن کا قول یاد دلایا۔ لنکن امریکہ کا سولہواں پریذیڈنٹ ( ۶۵ - ۱۸۶۱) تھا۔ امریکہ کی تاریخ میں لنکن کو قومی ہیرو کی حیثیت حاصل ہے۔ اس نے کہا تھا کہ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے واقعات کو کنٹرول کیا، بلکہ میں کھلے طور پر اعتراف کرتا ہوں کہ واقعات نے مجھے کنٹرول کیا ہے : I claim not to have controlled events, but confess plainly that events have controlled me. (Abraham Lincoln) میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہمیشہ تاریخی عوامل فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ بہت جلد آپ دیکھیں گے کہ جارج بش کے الفاظ واقع نہیں بنے۔ بلکہ یہ دراصل تاریخی حقائق تھے جنھوں نے دنیا کی صورت گری کی۔ ۷ مئی ۱۹۹۲ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب فرماتے تھے (ما خیر بین امرين الا اختار ايسرهما ) آجکل کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ معاملَات میں ہمیشہ آدمی کے سامنے دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک مشکل صورت اور دوسری آسان صورت ۔ پیغمبر خدا کا طریقہ یہ ہے کہ مشکل انتخاب (Hard option) کو چھوڑ دیا جائے، اور ہمیشہ آسان انتخاب (soft option) کو اختیار کیا جائے۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں ہر ملک میں ایک میدان کار وہ ہے جس میں سرگرم ہونے سے حکومتوں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page