ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
یا تشدد پسند جماعتوں سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرا میدانِ کار وہ ہے جس میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ پرامن جدوجہد جاری رکھی جاسکے۔ اب پیغمبرانہ سنت یہ ہوگی کہ پہلی قسم کے میدان میں زور آزمائی سے بچا جائے، اور دوسری قسم کے میدان میں اپنی قوتوں کو صرف کیا جائے۔ ۸ مئی ۱۹۹۲ سلمان رشدی کی کتاب (The Satanic Verses) کے خلاف مسلمانوں کا شور و غل اور مصنف کے قتل کے فتوئی کے بعد اس کی بہت بے شمار مضامین نیز کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب یہ ہے جو لندن سے چھپی ہے: Muhammad: A Western Attempt to Understand Islam by Karem Armstrong, Victor Gollanez, London خاتون مصنف نے لکھا ہے کہ مغرب میں سٹینک ورسز کی مقبولیت کا راز یہ ہے کہ یہ کتاب محمد اور اسلام کے بارہ میں مغرب کے مخصوص تصور سے نہایت مطابقت رکھتی ہے: The Satanic Verses fits neatly into the Western Stereotype of Muhammad and Islam. یہ تبصرہ نہایت درست ہے۔ مگر حق پسندی کے بجائے ذوق پسندی کا یہ مزاج جس طرح مغرب میں ہے ٹھیک اسی طرح وہ مشرق میں اور خود مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر راقم الحروف کے خلاف جو مضامین اور کتابیں پچھلے چند برسوں میں چھپی ہیں ان کو راقم الحروف کے مخالف حلقوں، مثلاً ند وہ، جماعت اسلامی، وغیرہ میں زبردست پذیرائی ملی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ تنقیدیں صحیح ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان مخالفین نے ضد اور انانیت کی بنا پر راقم الحروف کی جو خود ساختہ تصویر بنائی ہے، یہ مطبوعات انھیں اپنی اس تصویر کے عین مطابق نظر آتی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا (۸ مئی ۱۹۹۲) کے آخری صفحہ پر ایک رنگین اشتہار ہے۔ ایک آدمی نفاست اند ار کار پر ٹینک لگائے ہوئے کھڑا ہے۔ اس کے چہرہ اور اس کے انداز سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader