ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے دور اول میں جو لڑائیاں پیش آئیں ان کے بارے میں قرآن میں تین قسم کے الفاظ آۓ ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ لڑائیاں سب ایک قسم کی نہیں تھیں بلکہ وہ تین نوعیت کی لڑائیاں تھیں۔ پہلی قسم کی لڑائی وہ ہے جس کے لئے قاتلو هم بعد بهم اللہ بایدم کے الفاظ آۓ ہیں۔ بدر کی لڑائی اصلا اسی قسم میں شامل ہے۔ یہ دراصل اس سنت الہی کی تعمیل تھی جو انبیاء کے مخاطبین کے ساتھ ہر زمانہ میں پیش آتی رہی ہے۔ یعنی تمام حجت کے باوجود جو لوگ انکار کریں۔ انہیں ہلاک کر دینا۔ بدر کی جنگ حقیقۃ اہل مکہ کے اوپر اسی سنت الہی کا نفاذ تھا۔ دوسری جنگ وہ ہے جس کے لئے قرآن میں قاتلو ا الذین یقاتلو نکم کے الفاظ آۓ ہیں۔ یہ وہی جنگ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں دفاعی جنگ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بقیہ لڑائیاں سب اسی قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔ تیسری جنگ وہ ہے جس کے لئے وقاتلو هم حتی لا تکون فتنة کے الفاظ آۓ ہیں۔ اس سے مراد قدیم مذہبی جیر کے نظام کو ختم کرنا تھا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں رومیوں اور ایرانیوں سے جو لڑائیاں ہوئیں وہ سب اسی نوعیت کی لڑائیاں تھیں ۔ بعد کے زمانہ میں پہلی اور تیسری قسم کی جنگ کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ پہلی قسم کی جنگ کا تعلق صرف پیغمبر سے تھا اور تیسری قسم کی جنگ کا تعلق صحابہ کرام سے۔ اب ہمارے لئے صرف دوسری قسم کی جنگ باقی رہ گئی ہے۔ یعنی بوقت جارحیت مدافعانہ جنگ لڑنا۔ ۵ فروری ۱۹۹۱ ایک صاحب سے میں نے الرسالہ مشن کا تعارف کرتے ہوۓ کہا کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ عسر اور یسر دونوں موجود رہتا ہے۔ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں صرف عسر کا پہلو دکھائی دیتا ہے۔ وہ بس اسی کی فریاد کرتے رہتے ہیں۔ الرسالہ مشن اس کے برعکس یسر کے پہلو کو نمایاں کرنے کا مشن ہے۔ وہ عسر کو نظر انداز کرتے ہوۓ یسر کا اعلان کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader