Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

کے جذبہ سے نکلتی ہے۔ غیبت کے بعد اگر واقعۃ آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ کھلے طور پر اس کا اعتراف کرے تو یہ محض ایک سادہ بات نہیں ہوتی۔ ایسا اعتراف دراصل پوری نفسیات میں تبدیلی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کے خلاف پہلے آپ کے دل میں نفرت اور بد خواہی تھی ، اس کے لئے اب محبت اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہو گیا ۔ غیبت کرنے والے کے اندر اس قسم کی تبدیلی پیدا ہو جائے تو اس وقت دوسرے شخص کے حق میں اس کی زبان سے جو دعا نکلے گی وہ محض کچھ الفاظ نہ ہوں گے بلکہ ایک ایسا عمل ہوگا جو ہر غلطی کو محو کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ ۱۲ مئی ۱۹۹۲ راشٹریہ سہارا کے نام سے دہلی سے ایک ہندی روز نامہ نکلتا ہے۔ اس کے نمائندہ نے انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ میں اس نے پوچھا کہ سلمان رشدی کی کتاب "سٹینک ورسز" پر مسلمانوں نے جو متشدد دانہ رد عمل ظاہر کیا ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک بات کا جواب بات ہے ، بات کا جواب گولی نہیں ہے۔ ۱۳ مئی ۱۹۹۲ حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔ عرب اگر چہ جہاز ران نہ تھے ۔ مگر انھوں نے بڑی بڑی کشتیاں بنائیں اور قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ مگر جس چیز نے اس محاصرہ کو ناکام بنا دیا وہ "گرویک فائتر" تھی ۔ قسطنطنیہ کی رومی فوج نے قلعہ کے اندر سے گرویک فائیر پھینکی جس سے مسلمانوں کا کافی نقصان ہوا اور انھیں واپس ہونا پڑا۔ (19/576) (1V/708) مگر اس نقصان کے بعد انھوں نے شکایت اور احتجاج کا دفتر نہیں کھولا بلکہ اس پر اسرار فوجی ہتھیار کو معلوم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ آخر کار انھوں نے اس کو دریافت کر لیا اور پانچویں صلیبی جنگ میں اس کو استعمال کر کے دشمن کو زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی نقصان پہنچایا جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page