Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

قسطنطنیہ کے محاصرہ میں انھیں پہنچایا تھا۔ ایشیا ویک (Asiaweek) "ٹائم گروپ" کا ایک ہفتہ وار انگریزی میگزین ہے۔ اس کے سنیئر کرسپانڈنٹ روی ویلور (Ravi Velloor) آج انٹرویو کے لئے آئے۔ انٹرویو کے بعد انھوں نے کہا کہ اسلام پر انگریزی زبان میں تعارفی کتاب ہو تو اس کو میں خریدنا چاہتا ہوں تاکہ یہ جانوں کہ اسلام کیا ہے۔ ان کو اسلامی مرکز کی کچھ مطبوعات دی گئیں۔ مجھے بار بار اس طرح کا تجربہ ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مظاہر میں سے ایک منظر یہ ہے کہ آج کا تعلیم یافتہ انسان ہر چیز کے بارہ میں براہ راست معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ اسلام کے بارہ میں بھی جاننا چاہتا ہے۔ مگر اصل کمی یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلام پر تعارف کے لئے جدید اسلوب میں لٹریچر تیار نہیں کیا۔ ۱۵ مئی ۱۹۹۲ امام غزالی کی کتاب احیاء علوم الدین کو کچھ لوگ اپنے موضوع پر سب سے اعلیٰ کتاب سمجھتے ہیں۔ ایک بزرگ نے فرمایا کہ جس شخص نے احیاء العلوم کو نہیں پڑھا وہ زندہ لوگوں میں سے نہیں (من لم يقرأ الإحياء ليس من الأحياء)، دوسری طرف کچھ لوگ (مثلاً ابن تیمیہ) اس کے سخت ناقد ہیں۔ اس کتاب میں تصوف اور فلسفہ کا جو عنصر ہے اس کو وہ ضلالت سے کم نہیں سمجھتے۔ اس کتاب پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ اس میں ضعیف اور موضوع روایتیں بھری ہوئی ہیں۔ ۱۶ مئی ۱۹۹۲ اسلام میں علم کی اہمیت ہر دوسری چیز سے زیادہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں اور عائشہ آپ کی بیوی۔ عام فرق کے مطابق، اولاد کا درجہ بیوی سے زیادہ ہوتا ہے۔ مگر علماِ اسلام نے لکھا ہے کہ عائشہ کو فاطمہ پر فضیلت حاصل ہے۔ کیوں کہ عائشہ علم میں فاطمہ سے بڑھی ہوئی تھیں (قيل ان عائشة افضل من فاطمة لأنّ لعائشة شرف العلم ابن عابدين، فتاوى شامية (رد المحتار) ۲/ ۲۵۰

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page