Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 244

By Maulana Wahiduddin Khan

غزالی نے احیاء علوم الدین میں صوفیاء کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ روحانی علم (یا علم مکاشفہ) اپنی تکمیل کے لئے علم شریعت کا محتاج نہیں۔ اس کے حصول کا ذریعہ خلوت کی ریاضتیں ہیں۔ اس خلوت کے لئے صرف تاریک حجرہ ہی موزوں ہے۔ اور اگر تاریک جگہ نہ ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنا سر گریبان میں ڈال کر اوپر سے چادر اوڑھ لے۔ یہی وہ حالت ہے جس میں آواز حق سنی جاسکتی ہے۔ اور جلال الہی کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ (احیاء العلوم (۶۶/۳ یہی تمام صوفیاء کا نظریہ ہے۔ مگر وہ سراسر لغو ہے۔ اللہ کی معرفت اللہ کی تخلیقات میں غور کرنے سے ہوتی ہے۔ اس کا ذریعہ آثار کائنات کو دیکھنا اور اس میں آلاء اللہ کی جھلکیوں کو پانا ہے۔ بند حجروں میں بیٹھنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ۱۸ مئی ۱۹۹۲ ۱۸۵۷ء کے بعد علماء ہند عام طور پر انگریزوں کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ وہ ان سے سخت نفرت کرنے لگے تھے۔ وہ انگریزوں کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور ان سے کسی بھی قسم کا تعلق قائم کرنا حرام سمجھتے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر امریکہ کے بارے میں اسی قسم کے خیالات ظاہر کرتے ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ امریکہ اسلام کو مٹا ڈالنا چاہتا ہے۔ وغیرہ۔ میں اس طرز فکر کو سراسر غلط سمجھتا ہوں۔ مگر میرا خیال ہے کہ ماضی کے مسلمانوں اور حال کے مسلمانوں میں ایک فرق ہے۔ ماضی کے مسلمان اپنے اس احمقانہ نظریہ میں مخلص تھے اس لئے وہ انگریزوں سے کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف خوب سب وشتم کریں گے مگر پہلا موقع ملتے ہی خود بھی فخر کے ساتھ امریکہ پہنچیں گے اور اپنے بیٹے اور داماد کے لئے بھی چاہیں گے کہ انھیں امریکہ میں کوئی کام مل جائے۔ پہلے لوگوں کی روش اگر اجتہادی غلطی تھی تو موجودہ لوگوں کی روش کھلی ہوئی منافقت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page