ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
اقبال نے شاہ بو علی قلندر کا قصہ نظم کیا ہے۔ ان کا ایک مرید باز ار گیا۔ اس وقت شہر کے عامل کی سواری آرہی تھی۔ درویش مرید استغراق میں تھا۔ راستہ سے ہٹ نہ سکا۔ عامل کے چو ہد ار نے آواز دے کر ہٹانا چاہا ، مگر وہ اپنے خیالات میں کھویا ہوا اسی طرح راستہ کے درمیان چلتا رہا۔ چو ہد ار نے مرید کے سر پر اپنا ڈنڈا مارا۔ مرید چوٹ کھانے کے بعد واپس آیا اور اپنے شیخ بو علی قلندر سے فریاد کی۔ شیخ نے ناراض ہو کر بادشاہ کو خط لکھا یا کہ تمہارے عامل نے میرے مرید کو مارا ہے۔ اس کو فوراً معزول کر دو، ورنہ میں تمهارا ملک کسی اور کو دے دوں گا۔ باز گیر این عامل بد گو ہرے در نہ بخشم ملک تر باد دیگرے یہ بات واضح طور پر قرآن کے بیان کے خلاف ہے۔ کیوں کہ قرآن کہتا ہے کہ ”ملک“ کو دنیا یا چھیننا مکمل طور پر صرف خدا کے اختیار میں ہے ( آل عمران (۲۶) صوفیا اور شعراء کا کلام اس قسم کی لغو باتوں سے بھرا ہوا ہے ، اس کے باوجود صوفیا اور شعراء کی ہر طرف پرستش ہو رہی ہے۔ یہی ہے ــ رب ان قومی اتخذوا هذا القرآن مهجورا (الفرقن) 20 مئی 1992 حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصہ کے ذیل میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالی سے کہا کہ بلی و لیکن لیطمئن قلبی (البقرہ ۲۶۰) اس کی تفسیر میں ایک شخص نے کہا کہ ” قلبی“ در اصل حضرت ابراہیم کے ایک جگری دوست کا نام تھا۔ اور انھوں نے اپنے اسی دوست کے لئے وہ بات کہی تھی۔ ( الاتقان فی علوم القرآن للسیوطی) اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر سنجیدہ نہ ہو تو وہ کسی بھی کلام کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا۔ حتی کہ قرآن کو بھی نہیں۔ غیر سنجیدہ آدمی کے لئے ہر کلام نا قابل فہم ہے۔ ہندوستان ٹائمٹس (۲۱ مئی 1992) کے ایک جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ اس ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں تقریباً ۴۰ لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، جب کہ قابل تعلیم نوجوانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader