Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

کی تعداد تقریباً ۱۰ کروڑ ہے۔ انیسویں صدی میں برصغیر ہند کے مسلمانوں کو انگریزوں سے انتہائی نفرت ہو گئی، اس نفرت کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوا۔ بعض صورتیں نہایت عجیب تھیں۔ مثلاً ہندوستان کے ایک فارسی لغت نویس نے "فرنگی" کے معنی ان الفاظ میں بیان کئے؛ فرنگی یکے از حیوانات بحراست کہ گاہ گاہ بساحل نظر می آید (فرنگی سمندری جانوروں میں سے ایک جانور ہے جو کبھی کبھی ساحل پر دکھائی دیتا ہے)، ایک انقلابی شاعر نے نظم لکھی۔ اس میں انگریزوں کو "اے بندرو" کے لفظ سے خطاب کیا گیا تھا۔ اس قسم کے طرز فکر کا نقصان فریق ثانی کو ہو یا نہ ہو مگر خود اس طرز فکر کے حاملین کو یقینی طور پر اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فریق ثانی کی حیثیت و طاقت کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ اس کو خشکی یا تری کے جانور کی مانند سمجھ لیتا ہے، خواہ باعتبار حقیقت ان کی حیثیت زیادہ علم یا زیادہ طاقت والے انسان کی کیوں نہ ہو گئی ہو۔ ۲۳ مئی ۱۹۹۲ الرساله جون ۱۹۹۱ میں "زیادہ صحیح اصول" کے عنوان سے ایک مضمون چھپا تھا۔ یہ سلطان ٹیپو کے بارہ میں تھا۔ آخری مرحلہ میں انگریز سے ان کا مقابلہ انتہائی غیر مناسب تھا۔ اس میں سلطان ٹیپو کی شکست یقینی تھی۔ مگر وہ یہ کہہ کر انگریزوں سے لڑا گئے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔ حملے رصف بند کر کے عملے دو سال سے نہایت فریق کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page