Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ٹی وی نہیں دیکھتا۔ مگر شیر کے مناظر سے بہت دلچسپی ہے۔ امریکہ کے ایک ادارہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ افریقہ کے جنگلوں اور ہندوستان کے جنگلوں کی تصویر کشی کر کے شیر کی زندگی پر (اور دوسرے حیوانات پر) فلم تیار کی ہے۔ وہ اکثر ٹی وی پر آتی ہے۔ میں نے اس فلم کو دیکھا۔ یہ فلم جو مکمل طور پر حقیقی واقعات پر مبنی ہے، نہایت سبق آموز ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیر ہمیشہ لڑائی کو گوارا نہیں کرتا۔ فلم میں بار بار میں نے دیکھا کہ ایک طرف شیر جا رہا ہے دوسری طرف سے ہاتھی، بھینسا، جنگلی کتا وغیرہ آ رہے ہیں تو شیر ان سے بچ کر نکل جاتا ہے حتیٰ کہ ہرن اور چھتل وغیرہ جو شیر کی مرغوب غذا ہیں، وہ بھی اگر غول کی صورت میں ہوں تو شیر ان پر حملہ نہیں کرتا۔ شیر کا طریقہ یہ ہے کہ طاقت ہو تب بھی نہ لڑو۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے شیر کے نام پر خود ساختہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ طاقت نہ ہو تب بھی لڑ بھڑاؤ۔ ۲۴ مئی ۱۹۹۲ء حیدر آباد کے ایک انجینئر سید عارف الدین قادری سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مزاج یاروح عصر (spirit of the age) کو بتانا ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کے انسان کا مزاج یا اسپرٹ آف دی ایج، ایک لفظ میں، انکوائری ہے۔ موجودہ زمانہ کا انسان ہر چیز کی تحقیق کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہر چیز کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے۔ انکوائری کا یہ مزاج ابتداً سائنسی شعبوں کے بارہ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ پھیلتے پھیلتے مذہب تک پہنچ گیا۔ اس جذبہ کے تحت انسان نے مذہب کی بھی تحقیق شروع کر دی۔ چنانچہ آج کی دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو مذہب کو سمجھنے کے لئے اس کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت حال نے ہمارے لئے دعوت کے نئے مواقع کھول دیئے ہیں۔ ۲۵ مئی ۱۹۹۲ء آج رات تقریباً دو بجے میری نیند کھل گئی۔ حسب معمول میں اپنے مطالعہ کے کمرہ میں سویا ہوا تھا۔ اس کے بعد اٹھ کر لائٹ جلائی اور ایک مضمون لکھنا شروع کیا جو اس وقت میرے ذہن میں گونج رہا تھا۔ یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے متعلق مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page