ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
روح معاشرہ۔ چار بجے فجر کی اذان کی آواز آئی تو تین صفحہ کا یہ مضمون تیار ہو چکا تھا۔ اس کو لکھ کر میں نے سوچا کہ تین صفحہ کا یہ مضمون تیس سال میں لکھا گیا ہے۔ اس میں ۳۰ سال کا مطالعہ اور تجربہ شامل ہے۔ مگر شاید ہی کوئی ہو جو اس پر یقین کرے اور اس انسان کا تو شاید وجود ہی نہیں جو یہ سمجھے کہ اس چھوٹے سے مضمون کو لکھنے میں ۲۰ سال کیوں لگ گئے۔ ۲۶ مئی ۱۹۹۲ رتلام کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں خدا کے وجود کے بارہ میں شک میں پڑ گیا ہوں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا تو فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا۔ میں نے کہا کہ یہ سوال علمی طور پر بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ ہمارے لئے انتخاب (option) باخدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں ہے۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات میں ہے۔ چوں کہ ہم غیر موجود کائنات کا نقطۂ نظر اختیار نہیں کر سکتے، اس لئے ہم مجبور ہیں کہ باخدا کائنات کے نظریہ کو تسلیم کریں۔ ۲۷ مئی ۱۹۹۲ اخبارات کا مطالعہ میرے لئے ایک دہشت خیز تجربہ بن گیا ہے۔ آجکل اخبارات ظلم و فساد کی داستانوں سے اس طرح بھرے ہوتے ہیں کہ ان کو خبرنامہ کے بجائے جرائم نامہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ اخبار پڑھتے ہوئے مجھ کو یہ خیال آیا کہ یہ صورتِ حال شاید ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ زمین کو بنانے اور سنوارنے کے بعد پہلے اس پر جنّات کو بسایا گیا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ جنوں نے باہم قتل و غارت گری کی اور زمین پر فساد برپا کیا۔ اس کے بعد ان کو بے دخل کرکے یہاں انسان کو بسنے کا موقع دیا گیا (تفسیر ابن کثیر ۷/۰) اب انسان نے بھی فساد اور خوں ریزی سے زمین کو بھر دیا ہے۔ اس طرح انسان نے زمین پر بسنے کا استحقاق کھو دیا ہے۔ شاید وہ وقت قریب آ گیا ہے کہ دوبارہ انسان کو بحیثیت جنس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader