Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

اسے بطور نمبر شائع کیا جائے۔ ڈائری کے کچھ حصہ کی کتابت ہو چکی ہے۔ اس کو دیکھنے کے لئے مولانا انیس لقمان ندوی کو دیا گیا تھا۔ آج میں نے ان سے پوچھا کہ "ڈائری" کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ تربیت کے نقطۂ نظر سے میں اس کو بہت مفید سمجھتا ہوں۔ اس میں تربیتی عنصر طاقت ور شکل میں پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ ڈائری الرسالہ مشن کے لئے کتاب تصوف کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اس سے اتفاق کیا۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۲ مولانا رفیق کا نپوری (پیدائش ۱۹۳۰، سعودی عرب (الخبر) میں رہتے ہیں وہاں وہ الدعوۃ والارشاد کے شعبہ میں ہیں۔ آج ان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس دنیا میں ہر ایک کو دین بہت زحمت ملتا ہے۔ اور دنیا بقدر مقدر۔ نے کہا کہ مجھے اس سے مکمل اتفاق ہے۔ یکم جون ۱۹۹۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر نبوت کے ابتدائی مرحلہ میں "حدیث" کو لکھنے سے منع فرما دیا تھا (لا تكتبوا عنى غير القرآن)، مگر آخری زمانہ میں آپ نے لوگوں کو اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ (قيدوا العلم بالكتابة)، اس فرق کا راز کیا ہے۔ اس راز از یہ ہے کہ آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ قرآن کا متن اور حدیث کے کلمات مختلط ہو جائیں گے۔ بعد کو جب قرآن کا متن علیحدہ طور پر پوری طرح ممیز ہو گیا اور کثرت سے اس کے حفاظ پیدا ہو گئے تو یہ اندیشہ باقی نہ رہا۔ اس لئے بعد کو آپ نے کتابت حدیث کی اجازت دے دی۔ یہی حکمت میں نے الرسالہ مشن میں اختیار کی ہے۔ الرسالہ مشن کے ابتدائی دور میں کسی بھی قسم کا اختلاط گوارا نہیں کیا گیا۔ مثلاً الرسالہ میں اشتہارات شامل نہیں کئے گئے مکتبہ الرسالہ میں دوسری کتابیں نہیں رکھی گئیں۔ تعلیمی مدارس نہیں کھولے گئے، وغیرہ۔ مگر اب اللہ کے فضل سے پندرہ سالہ محنت کے نتیجہ میں الرسالہ کا فکر پوری طرح ممیز ہو گیا ہے، اس لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page