Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

اب پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ شٹلایکم مئی ۱۹۹۲ کو "الرسالہ بک سنٹر" کے نام سے ادارہ کھولا گیا ہے جس میں اپنی کتابوں کے ساتھ دوسروں کی کتابیں بھی فیاضی کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔ اب میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاءاللہ ایک درس گاہ بھی کھولی جائے گی۔ ۲ جون ۱۹۹۲ سید قطب کی عربی تفسیر فی ظلال القرآن اولاً قاہرہ سے چھپی تھی ۔ ہندوستان میں اس کا اردو ترجمہ کیا گیا۔ اس ترجمہ کی پہلی جلد ۱۹۸۸ میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اردو ترجمہ کے آغاز میں "انتساب" کے عنوان سے ایک صفحہ شامل ہے۔ اس میں حسب ذیل الفاظ درج ہیں : " ان سعید نفوس کے نام جو قرآن کو سمجھ کر اس کا حق ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔" یہ انتساب اگر چہ اصل عربی تفسیر میں موجود نہیں۔ مگر وہ اس کی روح کے عین مطابق ہے، کیوں کہ فی ظلال القرآن کو پڑھ کر طاری پر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ قرآن کوئی ایسی چیز ہے جس کو لے کر آدمی اٹھ کھڑا ہو۔ قرآن اس لئے ہے کہ اس کو پڑھ کر آدمی کے اندر ذکر و فکر کی صلاحیت ابھرے۔ اس کے اندر خوف خدا اور فکر آخرت کا مزاج پیدا ہو۔ وہ اپنی زندگی کو خدا کے رنگ میں رنگنے کا حریض بن جائے۔ قرآن کو پڑھ کر یہ ہونا چاہئے کہ آدمی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں، اور اس کے جسم پر قشعر ی پیدا ہو جائے۔ مگر مذکورہ الفاظ سے مطالعہ قرآن کا یہ تصور آدمی کے ذہن میں نہیں ابھرتا۔ ۳ جون ۱۹۹۲ ایک صاحب (مسٹر نیم)، ملاقات کے لئے آئے۔ وہ غالب سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شاعری Vehicle of truth ہے اور اس کی بہترین مثال غالب کی شاعری ہے۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے غالب کا یہ شعر پڑھا : اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی میں نے کہا کہ غالب کا یہ شعر آپ کی بات کی تصدیق نہیں کرتا۔ کسی آدمی کو اگر آگاہی حاصل نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page