Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو تو اس کے بعد اس کے لئے دوسرا بدل آگاہی کی تلاش ہے نہ کہ اپنے آپ کو غفلت میں ڈال لینا ۔ پھر میں نے کہا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ شاعری Vehicle of truth ہے ۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ، کیوں کہ شاعری Vehicle of expression ہے نہ کہ Vehicle of truth ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ بھی تجزیاتی انداز میں سوچنا نہیں جانتے ۔ ۴ جون ۱۹۹۲ آخرت کو یاد کرتے ہوئے یہ الفاظ زبان سے نکلے ۔ یا اللہ ، لوگ جہنم کو دیکھ کر جہنم سے ڈریں گے ، آپ کا یہ عاجز بندہ جہنم کو دیکھے بغیر جہنم سے ڈرا۔ لوگ جنت کو دیکھ کر جنت کے مشتاق ہوں گے ، آپ کا یہ عاجز بندہ جنت کو دیکھے بغیر جنت کا مشتاق ہوا ۔ ۵ جون ۱۹۹۲ آج جمعہ کا دن تھا ۔ میں نے کالی مسجد نظام الدین ، میں جمعہ کی نماز پڑھی ۔ گرمی سے جسم پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔ نماز کے بعد باہر آنے لگا تو عین مسجد کے دروازہ پر دو آدمیوں کے درمیان حسب ذیل گفت گو سنائی دی : " بڑی سخت گرمی ہے۔ پھر جہنم کی گرمی کیسی ہوگی ؟" " جہنم میں نبھ جائے گی۔ یہاں تو آپ گرمی کا مقابلہ کولر اور ایرکنڈیشنڈ سے کرتے ہیں۔" " وہاں تو گرمی ہی گرمی ہوگی ۔ اس لئے مقابلہ کا سوال نہیں ہوگا۔ پھر اتنا محسوس بھی نہیں ہوگا۔" لہجہ کا انداز بتا رہا تھا کہ دونوں میں سے کوئی بھی سنجیدہ نہیں ۔ پہلے آدمی نے صرف مضمون بندی کے طور پر ایک بات کہہ دی ، اور دوسرے آدمی نے بھی صرف مضمون بندی کے طور پر ایک برجستہ جواب دے دیا۔ اور پھر دونوں مسکرا دئے ۔ آج کل ہر مسجد میں نمازیوں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔ میں اس کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نماز کا تعلق مسلمانوں کے قومی تشخص، اس کے جذبے سے ہے نہ کہ حقیقت احساس آخرت سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page