Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اُسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو البتہ انھوں نے ہدایت پائی ( فان أمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا ) اصحابِ رسول کو معرفت کے درجہ میں ایمان لاتا تھا۔ آدمی کو جب معرفت کے درجہ میں ایمان ملے تو اس کے بعد اس پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ جس شخص کو درجہ معرفت میں ایمان نہ ملے وہ کبھی دین کی باتوں کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا۔ دین کی ناقص تشریح یا غلط ترجمانی جو آج کے لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کے یہاں عام طور پر نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کو ایمانِ تقلید کے طور پر ملا۔ وہ ان کو معرفت کے طور پر نہیں ملا۔ ۷ جون ۱۹۹۲ ایک صاحب کو اپنی زندگی کے کچھ واقعات بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ میری زندگی اس طرح کے واقعات سے بھری ہوئی ہے اور اس میں اتنے زیادہ متنوع قسم کے واقعات ہیں کہ اگر ان کو صحیح طور پر لکھ دیا جائے تو ناول سے بھی زیادہ دلچسپ ایک کتاب تیار ہو جائے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی کتاب نہ لکھ سکوں گا۔ تاہم اگر کوئی شخص میری زندگی کی کتاب میرے بعد لکھنا چاہے گا تو وہ ڈائری، خبر نامہ، سفر نامہ، خطوط کے جوابات، اور ٹیپ کی مدد سے کافی حد تک پیغام دے سکتا ہے۔ ۸ جون ۱۹۹۲ لیوس ٹامس (Lewis Thomas) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔ اس نے زمین کی بابت ایک بار کہا کہ وہ خلا میں لڑکا ہوا اور بظاہر زندہ (hanging there in space and obviously alive) ایک کرہ ہے۔ یہ زمین کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا میں مسلسل گردش کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جواہرات ہیں وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور بدن پر کپکپی طاری ہو جائے (ٹائم ۸ جون ۱۹۹۲ ، صفحہ ۵۲) زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو بہ کائنات اس کے لئے خدا کے جلال و جمال کا آئینۂ بن جائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page