Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

امام خرسی شرح سیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ روایت میں کہا گیا ہے کہ جب یزید بن معاویہ کو والی بنایا گیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ خیر ہو تو ہم شکر ادا کریں گے۔ اور اگر وہ مصیبت ہو تو ہم صبر کریں گے (قدروئ ان لم اولی یزید بن معاویة قال ابن عمر ان لم يكن خيراً شكرنا وان يكن بلاء صبراً) اس طرح کے معاملات میں یہی صحیح ترین مسلک ہے۔ حضرت حسین نے اس مسلک کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے "صبر" کے بجائے "خروج" کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ بلاشبہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ مگر کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ حسین کی یہ اجتہادی غلطی تھی کہ انھوں نے صبر کے معاملہ کو انتقام کا معاملہ سمجھ لیا۔ ۱۰ جون ۱۹۹۲ ایک خاتون نے شکایت کی کہ ان کے سسرال والے ان کو ستاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ ان کے ستانے پر آپ اپنے دل میں شکایت کا جذبہ نہ آنے دیں بلکہ اس پر صبر کرلیں۔ انھوں نے کہا کہ صبر سے کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ صبر سے جنت ملتی ہے۔ اور جس عمل سے جنت ملے اس سے بقیہ چیزیں اپنے آپ مل جائیں گی۔ قرآن میں ہے کہ صبر کرنے والوں کو ان کے صبر کے بدلے جنت عطا کی جائے گی (الدهر ۱۲)، اگر آپ پر تکلیف کے لمحات نہ آئیں تو آپ کو صبر کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔ تکلیف والے لمحات آپ کو یہ موقع دیتے ہیں کہ آپ صبر کا ثبوت دے سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی سسرال والے آپ کو صبر کا موقع دے کر آپ کو جنت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ وہ آپ کو دھکا دے کر جنت میں پہنچارہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم پاکستان ذو الفقار علی بھٹو کو ضیا الحق کی حکومت نے ۴ اپریل ۱۹۷۹ کو پھانسی دے دی تھی۔ پرانی دہلی کے مسلم نوجوان بھٹو کو مسلم عظمت کا نشان سمجھتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page