ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اس واقعہ پر سخت برہم ہو گئے۔ اس کے بعد ۶ اپریل کو جمعہ کا دن تھا۔ نوجوانوں نے ضیا الحق کا پتلا بنا کر جامع مسجد کے باہر کھڑا کیا۔ اور اعلان کیا کہ نماز جمعہ کے بعد اس کو جلایا جائے گا۔ اس روز میں نے جمعہ کی نماز اسی مسجد میں پڑھی تھی۔ نماز سے پہلے خطبہ کی تقریر میں امام عبداللہ بخاری نے بار بار نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”اے میرے نوجوانو، میں تم سے کہتا ہوں کہ تم پتلا مت جلاؤ، تمہاری قوتوں کو محفوظ رکھ کر اس کو ہم کسی اور بہتر کام میں لگانا چاہتے ہیں: مگر جیسے ہی نماز ختم ہوئی تمام نوجوان، سنت پڑھے بغیر تیزی سے باہر نکلے۔ چند منٹ بعد مسجد میں پٹاخوں کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے دیکھا تو نوجوان پتے میں آگ لگا کر اس کے کنارے کھڑے ہوئے تالیاں بجارہے تھے۔ ماہنامہ جامعہ (مئی ۱۹۹۲) میں اقبال کے بارہ میں ایک مضمون ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جولائی ۱۹۲۷ میں لاہور کے مسلمانوں میں زبردست شورش تھی، رنگیلا رسول کے سوال پر سلمان دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنا چاہتے تھے۔ لاہور کی جامع مسجد میں جمعہ کے بعد ڈاکٹر اقبال نے تقریر کی اور کہا کہ آپ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ مقدمہ عدالت میں ہے۔ اس کے فیصلہ تک دو تین مہینے صبر کریں۔ مگر حاضرین میں سے بعض لوگوں نے چلا چلا کر کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے اور ایسے مشوروں کو سننے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہیں۔ اقبال نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی تقریر کو ذرا خاموشی اور سکون سے سن لیں۔ لیکن مسجد میں ہر طرف شور و شخب بلند ہوگیا جس سے مکدر ہو کر اقبال نے تقریر ختم کر دی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ ۱۲ جون ۱۹۹۲ جگدیش سنگھ کالرا ایڈوکیٹ (۸۰ سال) تقسیم ۱۹۴۷ کے بعد لاہور سے دہلی آگئے۔ یہاں وہ نظام الدین ویسٹ میں رہتے ہیں۔ ان سے اکثر پارک میں صبح کو ٹہلتے ہوئے ملاقات ہوتی ہے۔ وہ اچھی اردو جانتے ہیں اور بالکل غیر متعصب آدمی ہیں۔ صبح انھوں نے اقبال کی نظم "شکوہ" کے کچھ اشعار سنائے۔ اور کہا کہ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ اقبال نے شکوہ میں کھلے طور پر خدا کے ساتھ گستاخی کی ہے۔ مگر مسلمان اقبال سے غصہ نہیں ہوتے۔ رشدی نے محمد صاحب کے خلاف گستاخی کی تو تمام مسلمان بھڑک اٹھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader