Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

اور کہنے لگے کہ اس کو قتل کرو۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یہاں جی۔ ۲۵ میں ایک مٹر پور رہتے ہیں۔ انھوں نے مختلف مسلم ملکوں کا سفر کیا ہے۔ اور مسلمانوں سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے بارہ میں کہتے ہیں کہ خدا اکو چاہے کتنا ہی برا ہو مگر مسلمان نہیں بگڑے گا۔ لیکن اگر محمد کو کچھ کہہ دیا تو مسلمان فوراً بھڑک اٹھے گا اور ایسے آدمی کو مار ڈالنے کے درپے ہو جائے گا (یہی بات شہاب نامہ ۱۷۔۱۶- ۱۲ میں درج ہے) میں نے مسٹر کالر اسے پوچھا کہ آپ کے نزدیک اس فرق کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ محمد تو ایک تاریخی شخص ہیں۔ ان کا وجود معلوم اور مسلم ہے۔ مگر خدا اکے بارہ میں کچھ نہیں معلوم کہ وہ ہے بھی یا نہیں۔ مسٹر کالر خدا اکے وجود میں یقین نہیں رکھتے۔ ان کی زبان سے یہ بات سن کر میں نے سوچا کہ مسلمان اپنے موجودہ رویہ سے مسٹر کالر جیسے لوگوں کے خیال کی تصدیق کر رہے ہیں۔ وہ گویا خدا اکے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ مسلمان زبان حال سے کہہ رہے ہیں ــــ محمد کی شخصیت ایک حقیقی شخصیت ہے اور خدا اکی شخصیت محض ایک فرضی شخصیت ہے۔ ۱۳ جون ۱۹۹۲ ایک صاحب سے گفت گو کے دوران میں نے کہا کہ صحیح نیت کے ساتھ کار پر بیٹھنا بھی ثواب ہے، اور غلطانیت کے ساتھ پیدل چلنا بھی جرم ہے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ صحیح نیت کیا ہے اور غلطانیت کیا۔ صحیح نیت کا مطلب ہے صحیح ذہن ، اور غلطانیت کا مطلب ہے غلط ذہن۔ ۱۴ جون ۱۹۹۲ عید الاضحیٰ کی نماز عرب سرائے کی مسجد میں پڑھی۔ امام صاحب نے نماز میں سورہ یوسف کی تلاوت کی۔ اس کو سن کر میں نے سوچا کہ یوسف ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے بھائیوں نے ان کو کنویں میں پھینک دیا۔ تاجروں نے ان کو غلاموں کے زمرہ میں داخل کر دیا۔ عزیز مصر نے ان کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ جیل کے ساتھی نے ان کو ایک ناقابل ذکر چیز سمجھا۔ ان سب کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی اور ان کے قصہ کو اپنی رحمت سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page