Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

احسن القصص بنا دیا ۔ یہ سوچتے ہوئے جی بھرا آیا۔ میں نے کہا کہ خدایا ، میرا معاملہ بھی ایسا ہی کچھ ہے ۔ امانز اور اکابر کی پوری فوج میرے خلاف سرگرم ہے۔ لوگ متحد ہو گئے ہیں کہ میرے قصے کو قصہ نہ بنا دیں۔ آپ دوبارہ اپنی رحمت سے میرے قصے کو احسن القصص میں تبدیل کر دیجئے۔ یاحی یاقیوم برحتک استغیث۔ ۱۵ جون ۱۹۹۲ سڑک پر ایک شخص ٹھیلا کھینچتا ہوا جا رہا تھا۔ ٹھیلے کے اوپر لوہے تھے۔ ٹھیلے والے کا حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ سخت مشکل کے ساتھ یہ کام کر رہا ہے۔ اس کو دیکھ کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ اس ٹھیلہ والے کی غربت اور بد حالی کو دیکھئے ۔ اس دنیا میں ایک طرف دولت اور عیش والے لوگ ہیں اور دوسری طرف غریب اور مصیبت زدہ لوگ ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ خدا اگر ہے تو اس نے اس قسم کی دنیا کیوں بنائی۔ میں نے کہا کہ یہ دراصل آزادی کی قیمت ہے۔ اگر ہم آزادی چاہتے ہیں تو لازماً اس دنیا میں اس قسم کے فرق بھی پائے جائیں گے ۔ یہاں ہمارے لئے انتخاب آزادی انسان اور محکوم انسان کے درمیان ہے نہ کہ آزاد انسان اور بے نقص انسان کے درمیان۔ ۱۶ جون ۱۹۹۲ ۱۵ جون کو میں قصاب پورہ کی مسجد گھنٹہ والی میں تھا۔ ایک مقامی تاجر دوست محمد صاحب مسجد میں آئے۔ ایک تبلیغی بزرگ محمد عارف صاحب نے ان سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ " یہ ایک رسالہ نکالتے ہیں۔" میں نے سوچا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تبلیغ والے جاہل مسلمانوں کو کلمہ نماز سکھاتے ہیں" تو محمد عارف صاحب تبلیغ کے اس تعارف کو تبلیغ کی تصغیر سمجھیں گے۔ وہ پسند کریں گے کہ تبلیغ کے تعارف میں یہ کہا جائے کہ تبلیغ دین کو زندہ کرنے کی عالمی محنت ہے۔ مگر تبلیغ کے بارہ میں مذکورہ تعارفی کلمہ جس طرح تبلیغ کے مشن کی تصغیر ہے اسی طرح یہ بھی ہمارے مشن کی تصغیر ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں۔ کیوں کہ الرساله مشن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page