Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف ایک رسالہ نکالنے کا نام نہیں بلکہ وہ احیاء اسلام کی ایک عالمی مہم ہے۔ اصل یہ ہے کہ تبلیغ کا پیٹرن قدیم روایتی پیٹرن ہے، اس لئے اس کی اہمیت فوراً لوگوں کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں الرسالہ کا پیٹرن مکمل طور پر جدید ہے۔ اس لئے اس کی اہمیت لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ انسان کی کمزوری ہے کہ "قدیم" کو وہ اہم سمجھ لیتا ہے، اور "جدید" کی اہمیت کو سمجھنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ ۷ جون ۱۹۹۲ "تبلیغ" کے تحت مسلمانوں کی جماعتیں نکالی جاتی ہیں۔ میں پہلی بار تین دن (۱۳ - ۱۶ جون) کے لئے بیس آدمیوں کی ایک جماعت میں نکلا۔ یہ جماعت ۱۳ جون کی دوپہر کو نظام الدین سے روانہ ہو کر قصاب پورہ پہنچی۔ وہاں تین مسجدوں میں وقت لگا کر ۱۶ جون کی صبح کو واپس آئی۔ تبلیغ کے نظام میں رات اور دن کے درمیان ۴۸ گھنٹہ کا ایک روٹین ہوتا ہے۔ اس روٹین کو وہ دینی محنت کہتے ہیں۔ یہی روٹین تین دن کی جماعت میں بھی ہوتا ہے، ۱۰ دن کی جماعت میں بھی اور ۴۰ دن کی جماعت میں بھی۔ تین روزہ "دینی محنت" کا کورس مکمل کرنے کے بعد جب میں ۱۶ جون کی صبح کو گھر واپس آیا تو ایک صاحب نے میرا تاثر پوچھا۔ میں نے کہا کہ میں تبلیغی جماعت کی افادیت کا پہلے بھی قائل تھا اور اب بھی قائل ہوں۔ مگر میری رائے یہ ہے کہ تبلیغ لوگوں کو صرف نچلی فکری سطح (lower intellectual plane) پر دین دار بناتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں الرسالہ مشن کا فنکشن یہ ہے کہ لوگوں کو بلند فکری سطح (higher intellectual plane) پر دین دار بنایا جائے ۔ تبلیغ کے بارے میں پہلے بھی میری رائے یہی تھی۔ اب عملی تجربہ کے بعد وہ مزید پختہ ہوگئی۔ اسلام کے احیاء کے لئے دونوں قسم کی تحریکوں کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہر زمانہ میں دونوں قسم کے لوگ سماج میں موجود رہتے ہیں۔ سادہ فکر رکھنے والے لوگ بھی اور گہری فکر رکھنے والے لوگ بھی۔ غالباً ۱۹۵۰ میں میری ملاقات جماعت اسلامی کے ایک رکن سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page