Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ سب سے پہلے میں نے رسالہ ترجمان القرآن کا شمارہ ستمبر ۱۹۳۴ء پڑھا۔ اتفاق سے اس وقت میں ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ اس کے ایک مضمون میں مولانا ابو الکلام مودودی نے سیاسی اقتدار کی اہمیت کو بتانے کے لئے ٹرین کی مثال دی تھی۔ انھوں نے لکھا تھا کہ دنیا گویا ایک ریل گاڑی ہے جس کو اس کا انجن چلا رہا ہے۔ یہ گاڑی ہمیشہ اسی رخ پر سفر کرتی ہے جس رخ پر ڈرائیور اس کو چلاتا ہے۔ جو لوگ اس میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ مجبور ہیں کہ اسی طرف جائیں جس طرف گاڑی جارہی ہے۔ خواہ وہ اس طرف جانا چاہیں یا نہ جانا چاہیں۔ اگر گاڑی میں کوئی ایسا مسافر بیٹھا ہے جو اس رخ پر نہیں جانا چاہتا تو وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا کہ چلتی ہوئی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اپنی نشست کا رخ آگے کے بجائے پیچھے پھیر دے۔ مگر نشست کا رخ بدلنے سے وہ اپنے سفر کا رخ نہیں بدل سکتا۔ سفر کا رخ بدلنے کی صورت میں اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ انجن کے ڈرائیور کو ہٹا کر انجن پر قبضہ کیا جائے ۔ مذکورہ بزرگ کو یہ مثال اتنی پسند آئی کہ وہ جماعت میں شامل ہو گئے۔ حالاں کہ اگر ان کے اندر سبق کا ذہن ہوتا تو انھیں معلوم ہوتا کہ اگلا ہی اسٹیشن اس مثال کی تردید کر رہا ہے۔ اگلے اسٹیشن پر اتر کر مذکورہ بزرگ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے جب کہ ٹرین کے ڈبے بدستور انجن میں بندھ کر اس کی سمت میں بھاگ رہے تھے۔ موصوف کا خود اپنا تجربہ بتا رہا تھا کہ انسان کا معاملہ ٹرین کے ڈبوں سے مختلف ہے۔ مگر وہ اس کو سمجھ نہ سکے۔ کیوں کہ ان کے اندر یہ صلاحیت نہ تھی کہ پہلے واقعہ کو دوسرے واقعہ کے ساتھ ملا کر کوئی سبق نکال سکیں۔ ۱۹ جون ۱۹۹۲ موجودہ زمانہ میں جو انقلابات آئے، ان کا ایک عظیم فائدہ یہ ہوا کہ دعوت کے راستہ کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ موقع دے دیا کہ وہ بے روک ٹوک تمام قوموں اور تمام ملکوں میں توحید کی دعوت پہنچا سکیں ۔ مگر عین اسی وقت مسلم رہنماؤں نے ایسی تحریکیں اٹھائیں جنھوں نے تمام مواقع کو برباد کر دیا۔ مثلاً آزادی تحریک، دو قومی تحریک، اینٹی استعمار تحریک، اینٹی رشدی تحریک ، نفاذ اسلام تحریک، اور دوسری تقریباً تمام تحریکیں نفرت اور تشدد کی فضا پیدا کر کے دعوت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page