Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

مواقع کو برباد کرتی رہیں۔ مزید یہ کہ ان دعوت کش تحریکوں کا سلسلہ بدستور ہر جگہ جاری ہے۔ شاید یہ سب سے بڑا جرم ہے جس کا ارتکاب موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کیا ہے۔ جب ہم ہاتھی کو دیکھتے ہیں تو ہم فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ہاتھی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہاتھی کا تصور پیشگی طور پر ہمارے ذہن میں موجود ہے۔ جب کوئی ہاتھی سامنے آتا ہے تو ہم سامنے کے منظر کو اپنے ذہنی تصور سے corelate کرتے ہیں۔ اس طرح ہم جان لیتے ہیں کہ یہ ہاتھی ہے۔ اگر ہم نے کبھی ہاتھی کو نہ دیکھا ہو اور نہ اس کا کوئی تصور ہمارے ذہن میں موجود ہو تو ہم ہاتھی کو دیکھ کر سمجھ نہ سکیں گے کہ یہ کیا چیز ہے۔ یہی معاملہ معنوی حقیقتوں کا بھی ہے۔ کوئی بیان کرنے والا جب ایک معنوی حقیقت کو (مثلاً تعبد اللہ کا نکتہ تراں) کے تجربہ کو بیان کرے تو میرے ذہن میں اس کا تصور ہونا چاہئے جس سے corelate کرکے میں اس کو جان سکوں کہ تعبد اللہ کا نکتہ تراں کیا ہے۔ اگر میرے ذہن میں پہلے سے اس کا خاکہ موجود نہ ہو تو بیان کرنے والا بیان کرے گا اور میں اس کو سمجھنے سے قاصر رہوں گا۔ ۲۱ جون ۱۹۹۲ اسلامی تاریخ میں سعد بن عبادہ کا معاملہ اور معاویہ بن ابی سفیان کا معاملہ ایک ہے۔ سعد کو یہ شکایت ہوئی کہ خلافت مہاجرین کے لئے کیوں، انصار کے لئے کیوں نہیں۔ معاویہ کو یہ شکایت ہوئی کہ خلافت بنو ہاشم کے لئے کیوں، بنو امیہ کے لئے کیوں نہیں۔ سعد اپنی شکایت کو اپنے سینہ میں لے کر خاموش بیٹھ گئے۔ اس کے برعکس معاویہ نے جنگ کی۔ عبد اللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بھی خلافت کی بیعت ہوئی اور حسن بن علی کے ہاتھ پر بھی خلافت کی بیعت ہوئی۔ اس کے بعد دونوں کے لئے حالات خلاف ہو گئے۔ عبد اللہ بن زبیر حالات سے لڑگئے اور حسن بن علی حالات کا اعتراف کرتے ہوئے خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ عبد اللہ بن عمر نے بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور حسین بن علی نے بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ یزید اگر صالح ہے تو ہم شکر کریں گے۔ اگر وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page