Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر صالح ہے تو ہم صبر کریں گے۔ مگر حسین بن علی نے یزید کے خلاف خروج کیا اور اس سے لڑ گئے۔ اب محفوظ طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان میں سے ہر کیس میں ایک کا رویہ اجتہاد صَبْر پر مبنی تھا اور دوسرے کا اجتہادی خطاپر۔ کیوں کہ یہ ناممکن ہے کہ دونوں کے رویہ کو یکساں طور پر صحیح قرار دیا جائے۔ ۲۲ جون ۱۹۹۲ موجودہ مسلمانوں کی اصلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا عظمت پسندی کا چھوٹا مزاج ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں صرف وہ افراد مقبول ہوتے ہیں جو ہائی پروفائل میں کلام کریں۔ مگر ہائی پروفائل پر و فائل میں بولنے والے لوگ قوموں کو صرف ہلاکت کی خندق میں لے جاتے ہیں۔ سچے رہنما وہ ہیں جو حقیقت پسندی کی زبان میں کلام کریں۔ اور حقیقت پسندی کی زبان ہمیشہ لو پروفائل کی زبان ہوتی ہے۔ ۲۳ جون ۱۹۹۲ محمد ضیا الحق صاحب (ڈائریکٹرنیشنل ڈیری) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ندرہ گئے۔ وہاں لوگوں نے زور و شور سے یہ مشورہ دیا کہ ”فکر کی غلطی پڑھئے۔ اس میں وحید الدین خاں کے افکار کو بالکل باطل ثابت کر دیا گیا ہے۔ ان کے اصرار پر ضیا الحق صاحب نے کتاب کا ایک نسخہ ۴۰ روپے میں خریدا اور پوری کتاب پڑھی۔ ”فکر کی غلطی کے آغاز میں الرساله دسمبر ۱۹۸۶ (صفحہ ۲۶) کی یہ عبارت نمایاں طور پر نقل کی گئی ہے اور اس کو نعوذ باللہ میری گمراہی کے یقینی ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے: ”خدا میرے لئے ایک رسمی عقیدہ نہیں ہے، خدا میری دریافت ہے۔ خدا کو میں نے دیکھا ہے۔ خدا کو میں نے چھوپا ہے۔ بندہ میری مثال صحرائے سینا کے اس پہاڑ کی سی ہے جس پر خدا اترا اور اس نے اس کی ہستی کے ریزے ریزے کر دیئے۔“ ضیا الحق صاحب نے کہا کہ مجھے اس پر تعجب نہیں کہ آپ پر یہ واردات گزری۔ مجھے تعجب اس پر ہے کہ ”فکر کی غلطی“ کے مصنف کو اس واردات کا تجربہ کیوں نہیں گزرا۔ انھوں نے مزید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page