ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا کہ مجھے یہ پوری کتاب محض بے باتوں کا مجموعہ نظر آئی۔ دارالعلوم دیوبند کے دو صاحبان آئے۔ انھوں نے تقلید ائمہ کی بات کی، میں نے کہا کہ تقلید ائمہ نہیں بلکہ تقلید صحابہ۔ انھوں نے کہا کہ صحابہ کا مسلک عام لوگوں کو کیسے معلوم ہوگا۔ میں نے کہا کہ اسی طرح جس طرح ان کو ائمہ کا مسلک معلوم ہوتا ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ تقلید صحابہ تو ایک نیا لفظ ہے۔ یہ ہم نے اب تک نہیں سنا تھا۔ میں نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ اسلام بعد کے زمانہ میں غریب (اجنبی) ہو جائے گا۔ یہی مطلب ہے اسلام کے اجنبی ہو جانے کا کہ آپ تقلید ائمہ کے لفظ سے آشنا ہیں مگر آپ تقلید صحابہ کے لفظ سے آشنا نہیں۔ حالاں کہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی تقلید ائمہ کا حکم موجود نہیں۔ جب کہ تقلید صحابہ کا حکم صراحۃً موجود ہے۔ مثلاً قرآن میں فرمایا کہ فإن آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت پر وہ ہے جس کا ایمان مثل ایمان صحابہ ہو۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ اصحابی كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے لوگوں کو صحابہ کی اقتدا کرنا ہے۔ اس سے ان کو ہدایت ملے گی۔ ۲۵ جون ۱۹۹۲ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ علماء ظاہر غیر انبیاء کے لئے الہام کی ہر صورت (مثلاً خواب، مکاشفہ، انسپریشن) کی شدت سے تردید کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ چیزیں اگر غیر انبیاء کے لئے تسلیم کر لی جائیں تو اس سے وحی کا صرف نبی کے لئے ہونا مشتبہ ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خلاف واقعہ بھی ہے اور غیر ضروری بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر انبیاء کے لئے اس قسم کے تجربہ کا ممکن ہونا انبیاء کی صداقت کو مزید ثابت کرتا ہے۔ ایک عام آدمی اگر جزئی انداز میں الہام کا تجربہ کرے تو اپنے اس ذاتی تجربہ کی روشنی میں اس کے لئے یہ عقیدہ قابل فہم ہو جائے گا کہ یہی تجربہ نبی کو کلی اور معیاری صورت میں حاصل ہوا۔ اکثر فکری غلطیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ آدمی ایک پہلو کو لیتا ہے اور دوسرے پہلو کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader