ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ کے سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ وہ ماہنامہ الرساله پڑھتے ہیں۔ انھوں نے الرساله کے بارہ میں زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ البتہ انھوں نے کہا : "مجھ کو جنت کا ٹکٹ چاہئے"۔ میں کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ نے پوری بات نہیں کہی۔ آپ الرساله پڑھتے ہیں، الرساله میں ہم یہی تو بتاتے ہیں کہ جنت کا ٹکٹ کیا ہے۔ مگر الرساله کے پیغام نے آپ کو زیادہ اپیل نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو دراصل جنت کا سستا ٹکٹ چاہئے۔ اور الرساله میں جنت کے جس ٹکٹ کی نشاندہی کی جارہی ہے وہ آپ کو مہنگا معلوم ہوتا ہے۔ انھوں نے مسکراکر کہا کہ ہاں، بات تو یہی ہے۔ میں نے کہا کہ پھر اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ سستا ٹکٹ ہمیشہ جعلی ٹکٹ ہوتا ہے۔ اور جعلی ٹکٹ آدمی کو ہمیشہ جیل خانہ میں لے جاتا ہے، سستا ٹکٹ کسی کو منزل تک نہیں پہنچاتار ۲۷ جون ۱۹۹۲ عزیز الحق خاں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ واپسی (گجرات)، میں ان کا پلاسٹک کا کارخانہ (Pack Plast India) ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بزنس میں کامیابی کاراز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک لفظ میں، محنت۔ پھر انھوں نے کہا کہ کسی بھی کام کو کرنے کے لئے اس کے پیچھے لگنا ہے۔ اگر آپ کام کے پیچھے پیچھے لگے رہیں، لگے رہیں تو کامیابی یقینی ہے۔ یہ بات سادہ سی ہے، مگر بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنے مقصد میں اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ وہ اس کے پیچھے نہیں لگتے ۔ ۲۸ جون ۱۹۹۲ حیدر آباد کے ایک صاحب (محمد محمود علی قطبی)، نے تصوف پر انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب ۲۰۰ صفحہ پر مشتمل ہے اور اس کا نام ہے : (Fragrance of Sufism) مصنف کے ایک تعلیم یافتہ دوست نے یہ کتاب مجھے ہدیہ دی۔ وہ خود بھی تصوف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader