ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
بارہ میں آپ یہ نہیں کہیں گے کہ ان کو درجہ تصوف حاصل ہوا، بلکہ یہ کہیں گے کہ ان کو درجہ تقرب حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف ایک طریقہ کار ہے۔ تصوف کا لفظ ایک میتھڈالوجی کو بتاتا ہے نہ کہ رزلٹ کو۔ اس لئے میرے سوال کے جواب میں آپ کو یہ بتانا چاہئے کہ باعتبار میتھڈ اس کا خلاصہ کیا ہے۔ وہ مزید کچھ نہ بتا سکے۔ ۲۹ جون ۱۹۹۲ ابو عبیدہ بن جراح سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ ایک گروہ جو مجھ پر ایمان لائے گا حالانکہ اس نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ (جامع الاصول في احادیث الرسول ۹/ ۲۰۶) اس سے مراد سادہ طور پر محض کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام کو اپنے لئے دریافت نو (rediscovery) بنائیں گے۔ جو ان نازک امور کو خود دریافت کریں گے جو صحابہ نے رسول کے بتانے سے جانا۔ مثلاً مکہ میں لڑنے کے بجائے ہجرت کرنا۔ حدیبیہ میں بظاہر پسپائی پر راضی ہو جانا، فتح مکہ کے بعد انتقام نہ لینا ۔ حنین کی فتح کے بعد تمام جنگی قیدیوں کو رہا کر دینا۔ خلافت کے مسئلہ میں مہاجرین کے مقابلہ میں انصار کا دستبردار ہو جانا ۔ وغیرہ۔ حدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام اجنبی ہو جائے گا۔ جب اسلام اجنبی ہوگا تو یقینی طور پر رسول بھی (اپنے حقیقی معنی میں) اجنبی ہو جائے گا۔ اس لئے بعد کے زمانہ میں رسول پر ایمان در حقیقت از سر نو رسول کو دریافت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو بعد زمانی کے باوجود مثل صحابہ ایمان کے حامل ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader