Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے شخص سے ایسی امیدیں قائم کرلیں جو امید اس سے قائم نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں بیشتر لوگ اوسط درجہ کے ہوتے ہیں. اور ہم ان سے اس رویہ کی امید قائم کرلیتے ہیں جو صرف اعلی درجہ کے انسان سے ممکن ہوا کرتی ہے۔ اگر آپ اس حقیقت کو جان لیں تو آپ کے بہت سے شکوے اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔ یکم جولائی ۱۹۹۲ کیرلا کے کچھ مسلمانوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ RSS کے جواب میں اسلامی سیوک سنگھ RSS بنایا ہے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آئی ایس ایس بنانا مسئلہ کا حل نہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ آرایس ایس والے مسلمانوں کو مارتے ہیں تو پھر کیا کیا جائے ۔ جب مرناہی ہے تو کیوں نہ مار کر مریں ۔ میں نے کہا کہ یہ مار کر مرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ فوق الثانی کو ایک الہ ہے کہ اور زیادہ ہمیں مارو۔ میں یہ مانتا ہوں کہ آرایس ایس والے اشتعال انگیزی کرتے ہیں ۔ مثلاً وہ نعرہ لگاتے ہیں کہ جس کو ہونا پاکستان ، اس کو بھیجو قبرستان۔ مگر محض اس قسم کی لفظی اشتعال انگیزی کبھی فساد نہیں بن سکتی۔ عملی فساد ہمیشہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی مزید کارروائی کر بیٹھتے ہیں۔ مثلاً ہندوؤں کے جلوس پر پتھر پھینکنا۔ اگر مسلمان صرف اتنا کریں کہ وہ اشتعال انگیزی پر مشتعل نہ ہوں تو کبھی بھی عملی فساد کی صورت پیش نہ آئے۔ ۲ جولائی ۱۹۹۲ رحمن نیر صاحب نے نظام الدین میں ایک مکان بنایا ہے۔ اس کی تعمیر میں ان کو دو سال (۹۲- ۱۹۹۱) لگے۔ اس دوران کے کئی قصے انھوں نے بتائے۔ ایک روز انہیں ایک نئے آدمی کو عوض قاضی بھیجنا تھا۔ وہاں سے بلڈنگ میٹریل کا کوئی سامان لے آنا تھا۔ آدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page