ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا کہ حوض قاضی کہاں ہے۔ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ دہلی میں کہیں ہے۔ تم باہر نکلو اور ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچو۔ سواری پر بٹھانے میں مطلوبہ سامان تو آ جاتا مگر آدمی کی شخصیت کی تعمیر نہ ہوتی۔ جب آدمی باہر نکلا اور لوگوں سے پوچھ کر اور ڈھونڈ کر وہاں پہنچا تو اس کا ذہن بیدار ہوا۔ اس نے ایک نئی چیز دریافت کی۔ اس کو یہ حوصلہ ملا کہ وہ حالات میں کو کر اپنا کام کر سکتا ہے۔ پہلی صورت میں صرف حصولِ سامان کا فائدہ تھا اور دوسری صورت میں اس کے ساتھ احیاءِ شخصیت کا فائدہ۔ ۳ جولائی ۱۹۹۲ لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (۲ جون ۱۹۹۲) میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا ایک مضمون چھپا ہے۔ انھوں نے اپنے سیاسی نظریہ کو قرآن کی اس آیت سے نکالا ہے : وربک فکبر (المدثر) اس کا مطلب انھوں نے یہ بتایا ہے کہ اللہ کو بڑا کہنا، اللہ کی بڑائی کو نافذ کر۔ یعنی سیاسی انقلاب برپا کر کے اللہ کی بڑائی کو زمین پر قائم اور نافذ کرو۔ یہ تفسیر اشتعال انگیز حد تک غلط ہے۔ اللہ کی بڑائی کوئی ہمارے قائم کرنے کی چیز نہیں، وہ ازل سے ابد تک خود اپنے زور پر قائم ہے۔ انسان اللہ کی قائم شدہ بڑائی کا اعتراف کرتا ہے نہ کہ وہ اس کی غیر قائم شدہ بڑائی کو قائم کرتا ہے۔ مذکورہ آیت میں تکبیر رب کا محلِ حقیقت کوئی زمینی جغرافیہ نہیں بلکہ ایک انسان کی اپنی شخصیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا اعتراف کر، تمھاری زبان اس کی بڑائی کا کلمہ بولے، تمھارا دل اس کی بڑائی کے آگے جھک جائے۔ اس کا یہی مطلب تمام مفسرین نے بیان کیا ہے۔ تفسیر مظہری کے الفاظ میں: صِفَةٍ باوصافِ الكمال، جلالاً متصف به غيره. و (والله كو ) (ان کا یہ)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader