Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح بنارس کے ایک بڑے مسلم ادارہ سے ایک عربی ماہنامہ صوت الامۃ کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے ٹائٹل پر ہمیشہ یہ فقرہ درج کیا جاتا ہے ــــ دعوتنا : عودۃ بالأمۃ، إلى الكتاب و السنة. ہر مسلم جریدہ ، ہر مسلم جماعت اور ہر مسلم ادارہ اسی طرح اسلام کی طرف واپسی کا نعرہ دے رہا ہے۔ ہر ایک کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اس نے لاکھوں مسلمانوں کو متاثر کیا ہے۔ حتی کہ ان کی مجموعی تعداد ایک کروڑ سے کم نہیں۔ مگر اس کے باوجود اب تک امت میں نہ تو اسلام زندہ ہوا، اور نہ امت کو سر بلندی حاصل ہوئی۔ کوششوں کا اس طرح بے نتیجہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ امت اس وقت حبط اعمال کے قانون کی زد میں ہے۔ اگر ایسا ہو تو یہ بے حد سنگین بات ہوگی۔ ۵ جولائی ۱۹۹۲ ادب میں ایک صنعت ہے جس کو صنعت عری عن النقط یا صنعت غیر منقوط کہتے ہیں۔ یعنی بے نقطہ والے الفاظ میں لکھنا ۔ ابوالقاسم الحریری کی مقامات الحریری کی کچھ عبارتیں اس صنعت میں ہیں۔ اسی طرح اردو شعراء میں میر انیس اور میر دبیر وغیرہ نے غیر منقوط الفاظ میں اشعار کہے ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ مشہور کتاب فیضی کی عربی تفسیر سواطع الالہام ہے۔ یہ پوری کتاب غیر منقوط الفاظ میں ہے۔ مگر اس کی عبارتوں میں اتنا زیادہ اغلاق اور ایہام ہے کہ اکثر اوقات اس کو پڑھ کر کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ مثلاً یہود اور بنی اسرائیل اور اہل کتاب ، سب میں منقوط الفاظ ہیں۔ اس لئے ان تینوں کو چھوڑ کر ان کو اہل ہود لکھا ہے۔ حالانکہ حضرت ہود سے بنی اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں۔ اس غیر ضروری تکلف کی وجہ سے سواطع الالہام ایک مبہم کتاب بن گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس غیر منقوط تفسیر کی ایک منقوط شرح لکھنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page