ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
نے کیسی عجیب طاقتیں انسان کو دے دی ہیں۔ وہ طاقت جو ایک شہر کو لے کر سمندر میں تیرتی ہے۔ جو ایک پوری آبادی کو لیکر لوہے کی پٹری پر دوڑتی ہے ۔ جو ایک پورے مکان کو لے کر ہوا میں اڑتی ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر مسٹر عبدالستار پچھلے چھ سال سے ہندوستان میں پاکستان کے سفارتی نمائندہ تھے۔ اب وہ اپنے ملک واپس جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ۶ جولائی کو وٹل بھائی پٹیل ہاؤس میں دلی کے کچھ ہندو صاحبان کی طرف سے ایک فیرویل تقریب ہوئی۔ پائیر (۳ جولائی) کی رپورٹ کے مطابق، مسٹر عبدالستار نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ باوجود ان مسائل کے جن کا سامنا ایک ڈپلومیٹ کو پڑوسی ملک میں کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب کہ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوں یہ اس کا فرض ہے کہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے تخلیقی انداز اختیار کرے: despite the problems a diplomat faces in a neighbouring country especially when relations are sour, it is incumbent on him to adopt a creative approach to improve bi-lateral relations. (p. 3) پچھلے چھ سال کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسٹر عبد الستار کا تخلیقی انداز دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے میں کچھ بھی کار آمد نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دو طرفہ بنیاد پر تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر اس طرح کے نزاعات کبھی دوطرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں تخلیقی انداز یہ ہے کہ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا جائے اور ایک طرفہ بنیاد پر نزاع کو ختم کر دیا جائے۔ موجودہ مسئلوں کے بارہ میں ایک چیز مشاہدہ میں آئی ۔ اس کو دیکھ کر خیال ہوا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader