Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 269

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں کام کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے۔ ان مواقع کے ذریعہ دین کا کام مزید اضافہ کے ساتھ کیا جاسکتا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس معاملہ میں مجرمانہ حد تک غفلت کا ثبوت دیا ہے۔ نئے اقتصادی مواقع اس لئے تھے کہ دین کے شعبوں کو مزید مالی تقویت پہنچائی جائے۔ مگر مسلمانوں نے نئے اقتصادی مواقع کو صرف اپنی معاشی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے استعمال کیا۔ جدید میڈیا یا اس لئے تھا کہ اشاعت دین کی ہم کو تیز تر کیا جائے۔ مگر جدید میڈیا کو اٹھوا نے ذاتی ناموری کے لئے استعمال کیا۔ قوت کے نئے ذرائع اس لئے تھے کہ اسلام کو مزید مستحکم کیا جائے مگر انھوں نے قوت کے نئے ذرائع کو صرف اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے استعمال کیا۔ ۹ جولائی ۱۹۹۲ فتح الباری (شرح صحیح البخاری پڑھتے ہوئے وہ حدیث سامنے آئی جس میں اشراط الساعۃ کا ذکر ہے۔ مجھے خیال آیا کہ یہ غالباً ان مظاہر کا بیان ہے جو صنعتی دور میں پیش آنے والے تھے۔ مثلاً اس کا ایک جزو بخاری کی روایت میں یہ ہے کہ اذ اولدت الامة ربها۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : اذارایت المرأة تلد ربّها (شرح فتح الباری ۳۷) یہی بات دوسری حدیث میں اس طرح ہے کہ : بترصدیقه وجفا اباہ۔ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے دور میں بیٹے اپنے والدین کے فرماں بردار نہ رہیں گے۔ بغور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قدیم زرعی دور میں معاشیات کا انحصار زیادہ تر زمین پر ہوتا تھا۔ زمین آخر عمر تک باپ کی ہوتی تھی اور صرف اس کے مرنے کے بعد بیٹے کو ملتی تھی۔ اس بنا پر بیٹا اپنے آپ کو باپ پر منحصر سمجھتا تھا۔ یہ احساس اس کو اپنے باپ کا وفادار بنائے رکھتا تھا۔ موجودہ صنعتی دور میں بے شمار قسم کے نئے ذرائع معاش پیدا ہو گئے ۔ اب ہر نوجوان کو نظر آنے لگا کہ اس کی معاشیات کا انحصار باپ کی زمین پر نہیں۔ وہ کہیں بھی اپنے لئے کمائی کے اسباب پا سکتا ہے۔ اس احساس نے بیٹے کے اندر باپ کے لئے وفاداری اور فرماں برداری کا مزاج ختم کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page