ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا تو اس کے جواب میں آپ بھی کچھ کہہ دیتے ۔ کہنے کا جواب کہنا ہے، اس کا جواب غصہ نہیں۔ اسی لئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ (النخل ١٢٦) ١١ جولائی ۱۹۹۲ ہمدرد نگر (نئی دہلی) کی مسجد میں تبلیغی جماعت کا ایک اجتماع تھا۔ ایک صاحب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بتایا گیا کہ یہ سعودی عرب میں ڈاکٹر ہیں۔ چالیس دن کے لئے نکلے ہیں اور آذر بائیجان جا رہے ہیں۔ ان کو ساڑھے چھ ہزار ریال تنخواہ ملتی ہے۔ انہوں نے بلا تنخواہ رخصت لے کر یہ چلے دیا ہے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی۔ وہ لاؤڈ اسپیکر پر بول رہے تھے۔ حاضرین میں بمشکل پچاس آدمی ہوں گے۔ ایک نیا آدمی تھا۔ وہ مجمع سے تقریباً ایک ہزار میٹر کے فاصلہ پر تھا۔ مقرر نے اس سے کہا کہ قریب آجائیے۔ وہ اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ مقرر نے کئی بار قریب آنے کے لئے کہا تو وہ بولا کہ آپ کی آواز آ رہی ہے۔ اس پر مقرر صاحب بجھ گئے۔ انھوں نے کہا : کیا میں لاؤڈ اسپیکر ہٹا دوں۔ اس کے بعد وہ آدمی مزید کچھ نہیں بولا۔ وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اس واقعہ کے بعد میں نے سوچا کہ پیسہ کی قربانی دینا آسان ہے مگر نفس کی قربانی دینا مشکل۔ ۱۲ جولائی ۱۹۹۲ سوامی رام تیر تھ (۱۹۰۶ - ۱۸۷۴) اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو گردو تھے۔ وہ غالباً ۱۹۰۳ میں امریکہ گئے۔ ہفت روزہ آرگنائزر (۱۲ جولائی ۱۹۹۲) کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ وہاں ایک امریکی ڈاکٹر نے انھیں کھانے پر بلایا ۔ یہ امریکی ڈاکٹر خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے باہر ایک پتے کارڈ پر یہ جملہ لکھ کر رکھ دیا کہ گاڈ از نو دھیر ۔ رام تیر تھ جب اس کے دروازہ پر پہنچے اور مذکورہ پتے کارڈ دیکھا تو انھوں نے خاموشی سے ڈبلیو کو مٹایا اور اس کو معمولی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader