Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

رسائل پڑھیے ۔ ان کے اجتماعات میں شرکت کیجیے۔ ان کی مجلسوں کی گفت گو سنئے۔ ہر جگہ فریاد و احتجاج کی آوازیں سنائی دیں گی۔ مسلمانوں کے اپنے اعتراف کے مطابق، موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندو انہیں مار رہا ہے۔ فلسطین میں یہودی ان کے اوپر ظلم کر رہا ہے۔ خلیج میں عیسائی ان کو ہلاک کر رہا ہے ۔ وغیرہ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ صورت حال انسان کی طرف سے نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔ وہ حقیقتہً انسانی ظلم نہیں بلکہ خدا کی تنبیہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے یہ کیا کہ خدا کی دی ہوئی سیاسی طاقت کو محض حکمرانی کا فیصلہ سمجھا اور خدا کے دیے ہوئے اقتصادی ذرائع کو صرف عیش و عشرت کا ذریعہ بنا لیا۔ حالانکہ سیاسی قوت اور اقتصادی وسائل دونوں اصلاً دعوت کا کام کرنے کے لئے دئے گئے تھے۔ 9 فروری 1991 قدیم زمانہ سیاسی جبر کا زمانہ تھا۔ مزید یہ کہ اس سیاسی جبر کی تربیر مشرکانہ مذہب عقیدہ سے کی جاتی تھی ۔ اس طرح یہ سیاسی جبر عملاً مذہب جبر بن گیا۔ اس دور میں توحید کی دعوت فوراً پکل دی جاتی تھی، کیوں کہ توحید کا عقیدہ قدیم بادشاہوں کے حقِ حکمرانی کو بے بنیاد ثابت کرتا تھا ۔ اللہ تعالی نے پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ مذہبی جبر کے اس نظام کو ختم کر دیا ۔ یہی وہ عمل ہے جس کو قرآن میں ختم فتنے کے لئے قتال کہا گیا ہے ۔ عرب میں شرک کے خاتمہ اور رومیوں اور ایرانیوں کی مشرکانہ سلطنتوں کے خاتمہ کے بعد یہ عمل اپنی آخری تکمیل کو پہنچ گیا۔ اس واقعہ کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کے بڑے حصہ پر اہل اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا ۔ یہ اقتدار بذاتِ خود مطلوب نہ تھا وہ محض ایک ثانوی نتیجہ تھا ۔ اصلی مطلوب و مقصود یہ تھا کہ دعوتِ توحید کے مواقع ہمیشہ کے لئے کھول دئے جائیں۔ اللہ تعالی نے ایک طرف سیاسی جبر کو ختم کیا۔ دوسری طرف تیس لکی دولت کا ۵۰ فیصد حصہ مسلم ملکوں اور مغربی ایشیا کی زمین کے نیچے رکھ دیا۔ اس طرح یہ انتظام کر دیا گیا کہ صنعتی دور میں بھی اہل اسلام کو ہر قسم کے ضروری وسائل حاصل رہیں ۔ مگر مسلمانوں نے اصل مقصود (دعوتی عمل) کو بھلا دیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page