ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے ان دونوں نعمتوں کو بالترتیب صرف اقتدار اور عیش کا ذریعہ سمجھ لیا۔ اور دعوت کے اصل کام کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا جرم ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مسلسل جرم کی بنا پر اللہ کا غضب ان کے خلاف بھڑک اٹھا ہے۔ ۱۰ فروری ۱۹۹۱ء صدر صدام حسین نے ۱۹۷۹ء میں عراق کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ عنقریب وہ کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعہ آدھے اسرائیل کو جلا ڈالیں گے (اسے سمترق نصف اسرائیل بالکیمیاوی)۔ اس سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے۔ سمتر میکم فی البحر)۔ مگر دونوں میں سے کوئی بھی اسرائیل کا کچھ بگاڑ نہ سکا۔ جو لوگ بڑے بڑے الفاظ بولیں ان کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ عام تجربہ ہے کہ زیادہ الفاظ بولنے والے ہمیشہ عمل میں تھوڑے ہوتے ہیں۔ ۱۱ فروری ۱۹۹۱ مولانا اخلاق حسین قاسمی (دہلی) کا ایک مراسلہ روزنامہ قومی آواز (۱۱ فروری ۹۱) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک پیراگراف یہ ہے: "ہندوستان میں اسلامی احیاء کی پوری تاریخ کو گمراہی قرار دینے والے واحد مسلم قائد مولاناوحیدالدین خاں کو اگر ایک طرف سوشلسٹ ملکوں سے تعاون حاصل ہوا تو دوسری طرف اسلامی نظام کے حامی صدر ضیاء الحق صاحب کو اشارہ ملا کہ حضرت خاں صاحب کی مدد کی جائے اور انھیں ایک کتاب کے انعام کے نام پر دوبارہ مدد ملی۔ یہ سب مغربی سامراجوں کی منافقانہ سیاست ہے۔" مولانا اخلاق حسین قاسمی نے اس مراسلہ میں امریکی میگزین ٹائم (۲۴ ستمبر ۱۹۹۰) کے ایک مضمون کی بنیاد پر شکایت کی ہے کہ مغربی پریس مسلم حکمرانوں کی کردار کشی کر رہا ہے ۔ مگر میرے بارہ میں یہی فعل وہ زیادہ بری صورت میں انجام دے رہے ہیں۔ ٹائم نے تو یہ کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader