Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

ناؤ ہیر بن گئی۔ یعنی حسب ذیل طریقہ پر : God is no where God is now here کھانے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ میں تو ایک ناسٹک ہوں اور میں نے اپنا عقیدہ لکھ کر باہر لگا بھی دیا ہے۔ پھر آپ نے میرے یہاں کھانا نا کیوں قبول کیا۔ رام تیر تھ نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرے ساتھ آئیے۔ پھر وہ ڈاکٹر کو لے کر باہر گئے اور پتے کارڈ پر لکھا ہوا نیا جملہ دکھایا۔ ڈاکٹر پر اس بات کا بے حد اثر ہوا اور وہ رام تیر تھ کا عاشق (Mr. Oyamada) بن گیا۔ اس غیر معمولی ذہانت کے باوجود رام تیرتھ کا انجام یہ ہوا کہ ابھی وہ ۳۳ سال کے ہوئے تھے کہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۶ کو دریائے گنگا میں ڈوب کر مر گئے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۹۲ ۱۲ - ۱۳ جولائی کو میں ہمدرد نگر میں تھا۔ وہاں میری چند تقریریں ہوئیں۔ ایک مجلس میں ہمدرد نگر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد جمع ہوئے۔ میں نے گفت گو کے دوران کہا کہ ہندوستان میں پچھلے سو سال کے درمیان بہت سے مصلحین اٹھے۔ انھوں نے ملت کے اندر حرکت اور بیداری پیدا کرنا چاہا۔ مثلاً مولانا محمود حسن صاحب ، مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا ابو الاعلٰی مودودی وغیرہ۔ مگر کوئی بھی ملت کے اندر عمومی حرکت پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ تبلیغی جماعت نے ستر سال پہلے ملت کو اٹھانے کا کام شروع کیا۔ اور آج ہر ایک اعتراف کرتا ہے کہ اس نے ملت کے اندر عمومی حرکت پیدا کر دی۔ میں نے کہا کہ اس ظاہر میں ہمارے لئے کئی سبق ہیں۔ اس کے بعد میں نے چند سبق کے پہلو بیان کئے ۔ میری گفت گو ختم ہوئی تو ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ مجھے آپ سے سخت اختلاف ہے۔ تبلیغی جماعت کو اگر پھیلاؤ حاصل ہوا تو یہ اس کی صداقت کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے سینٹ پال کی تحریک کو حضرت مسیح کی تحریک سے بھی زیادہ پھیلاؤ ملا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سینٹ پال کی تحریک زیادہ صحیح تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page