Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

(النساء، ۴۶) کہا گیا ہے۔ ابوالبقا صاحب، بمبئی (فون نمبر 4090230) چمڑے کا ایک آئٹم جاپان ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ 1949 میں وہ ٹوکیو گئے۔ ان کی پارٹی او بوشی کمپنی لمیٹڈ (Aoboshi Company) نے ٹوکیو کے ایک ہوٹل ڈاچی گنزا (Dichi Ginza) میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ کمپنی کے نمائندہ او یا ما ڈ Mr. Oyamade شام کو ان سے کہہ گئے کہ کل صبح سات بجکر ۲۵ منٹ پر ہم یہاں آئیں گے اور آپ کو اپنے کارخانے میں لے جائیں گے۔ آپ وقت پر ہوٹل کے گیٹ پر آ جائیں۔ ابوالبقا صاحب نے ہندوستانی مزاج کے مطابق یہ کیا کہ اطمینان سے ٹہلتے ہوئے ہوٹل کے گیٹ پر پہنچے تو سات بجکر پچاس منٹ کا وقت ہو چکا تھا۔ یعنی پانچ منٹ زیادہ۔ وہاں گیٹ پرمسٹراو یا ما ڈا گاڑی لئے ہوئے کھڑے تھے۔ انھوں نے ابوالبقا صاحب سے کہا کہ آج تو ہم نے آپ کا لحاظ کیا۔ لیکن کل کے دن اگر آپ لیٹ ہوئے تو ہم ایک منٹ بھی انتظار نہیں کریں گے۔ سات بج کر ۲۵ منٹ پر گاڑی آپ کو لئے بغیر واپس چلی جائے گی۔ ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ آج میں لودی گارڈن گیا۔ یہ ٹہلنے کے لئے اچھی جگہ ہے۔ اکثر اونچے طبقے کے لوگ یہاں چہل قدمی کے لئے آتے ہیں۔ ایک خوش پوش آدمی کو دیکھا۔ وہ اپنے بچہ کے ساتھ آیا تھا۔ بچہ کی عمر تقریباً ۸ سال ہوگی۔ بچہ نہایت تندرست تھا اور طرح طرح کے کھیل کود کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کا باپ، ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر خوشی سے باغ باغ ہورہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر خوش ہونے والے بے شمار ہیں۔ مگر بیٹے کے خالق کو سوچ کر اس کا شکر کرنے والا کوئی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page