ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا عبداللہ طارق سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ شریعت میں بتایا گیا ہے کہ اجتہاد کرنے والا صحیح اجتہاد بھی کرتا ہے اور غلط اجتہاد بھی (المجتهد يخطئ ويصيب)، اگر آدمی کی نیت میں اخلاص ہو تو صحیح اجتہاد پر دو ثواب ہے اور غلط اجتہاد پر ایک ثواب۔ میں نے کہا کہ اگر اس تقسیم کو نفسیاتی اعتبار سے بیان کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک اجتہاد وہ ہے جو متاثر ذہن کے تحت کیا جائے اور دوسرا اجتہاد وہ ہے جو غیر متاثر ذہن کے تحت کیا جائے۔ اجتہاد میں غلطی اس وقت ہوتی ہے جب کہ محدود معلومات یا متاثر ذہن کے تحت اجتہاد کیا گیا ہو۔ صحیح اجتہاد کے قابل آدمی اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ مکمل معلومات رکھتا ہو۔ اور غیر متاثر ذہن کے تحت سوچ کر رائے قائم کر سکے۔ ۱۷ جولائی ۱۹۹۲ ایک صاحب سے اس موضوع پر گفت گو ہوئی کہ تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت مبنی بر مسجد (Masjid-based) تحریک ہے۔ اس کے مقابلہ میں جماعتِ اسلامی ایک مبنی بر پارلیمنٹ (Parliament-based) تحریک ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ تبلیغی کو فورا ہی اپنا میدان کار مل جاتا ہے۔ کیوں کہ صرف ہندوستان میں اس وقت تین لاکھ مسجدیں ہیں اور ہر مسجد میں آڈیننس (audience) بھی موجود ہے۔ جب کہ جماعت اسلامی کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ اس کا میدان عمل ابھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کے نزدیک اصل میدانِ عمل پارلیمنٹ ہے۔ اور پارلیمنٹ ابھی تک دوسروں کے قبضہ میں ہے۔ اس فرق کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ تبلیغ میں مثبت ذہن بنتا ہے اور جماعت اسلامی میں احتجاجی ذہن۔ تبلیغی جماعت کا آدمی ’پائے ہوئے ذہن کے ساتھ‘ جیتا ہے اور جماعت اسلامی کا آدمی ’کھوئے ہوئے ذہن کے تحت۔ تبلیغی آدمی کے لئے ساری دنیا کے لوگ اپنے نظر آتے ہیں اور جماعتی آدمی کو ساری دنیا کے لوگ رقیب اور غیر دکھائی دیتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من استوى يوماه فهو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader