Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

مخبوط الحواس آدمی کے دو دن یکساں گزریں وہ دھوکا کھایا ہوا آدمی ہے) یہ وہی بات ہے جس کے لئے قرآن میں ازدیادِ ایمان کا لفظ آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایمان آدمی کی شخصیت کو جگا کر اس کو ایک ترقی پذیر شخصیت بنا دیتا ہے۔ وہ جمود کی حالت سے نکل کر ارتقا کی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن کو ہر دن کوئی نئی چیز ملتی ہے۔ اس کا ہر اگلا دن پچھلے دن کے مقابلے میں اضافہ شدہ دن ہوتا ہے۔ ۱۹ جولائی ۱۹۹۲ ایک جاپانی صحافی نے جاپانی قوم کے بارے میں کہا کہ جاپانی قوم کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ جاپان کا ایک ایک فرد انتہائی محب وطن ہوتا ہے۔ اگر قوم کا ایک ڈالر کا نقصان ہورہا ہو تو ایک جاپانی قوم کو اس نقصان سے بچانے کے لئے اپنا سو ڈالر کا نقصان کروالینے کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھے گا۔ (نوائے وقت ۱۲ جولائی ۱۹۹۲ ) میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہی احساسِ مومن کے اندر حق اور ناحق کے بارے میں ہوتا ہے۔ مومن اپنی ذات کو مجروح کر لیتا ہے مگر حق کو مجروح کرنا اس سے گوارا نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک شخص سے غلطی ہو جائے مگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے تو گویا اس نے اپنی ذات کو بچانے کے لئے حق کو مجروح کر دیا۔ کسی محبوب شخصیت پر تنقید کی جائے مگر وہ اس طرح کی تنقید کو برداشت نہ کرے تو گویا اس نے حق کا مجروح ہونا ناگوار کیا۔ مگر اس نے اپنی پسندیدہ شخصیت کا مجروح ہونا گوارا نہیں کیا۔ ۲۰ جولائی ۱۹۹۲ افغانستان میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت ختم ہوئی اور افغانی مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی تو ساری دنیا کے مسلم پریس نے اس کو افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے ہم معنی قرار دیا۔ لاہور کے روزنامہ وفاق (۲۱ ذی قعدہ ۱۴۱۲ھ ، ۱۶ مئی ۱۹۹۲ ) کے صفحہ اول کی جلی سرخی یہ تھی : افغانستان میں نظامِ اسلام عملی طور پر نافذ کر دیا گیا۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوہ (۲۳ ذی الحجہ ۱۴۱۲ھ ، ۲۵ جون ۱۹۹۲ ) میں ڈاکٹر عبداللہ بن عمر النصيف ، امین عام ، رابطہ العالم الاسلامی کا ایک بیان چھپا ہے۔ اس میں افغانستان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page