Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نظامِ شیوعی کے سقوط اور افغانی مجاہدین کی حکومت کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا آج زمین کے اوپر ایک جدید اسلامی ریاست کے قیام کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ اس خصوصی بیان کا عنوان ہے: العالم يشهد اليوم قيام دولة اسلاميه حديثة على الارض۔ میرے نزدیک یہ سراسر خوش فہمی ہے۔ افغانستان میں جو واقعہ ہوا ہے وہ ایک روس نواز حکومت کا خاتمہ ہے نہ کہ اسلامی حکومت کا قیام ۔ حکومت اسلامی کا قیام ایک علیحدہ امر ہے۔ حکومت اسلامی صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ اس کے حق میں ضروری اسباب پیدا کئے گئے ہوں۔ مگر یہ ضروری حالات نہ افغانستان میں پیدا کئے گئے نہ پاکستان میں نہ مصر میں نہ الجیریا میں اور نہ کسی اور ملک میں۔ اسلامی نعرہ تو ضرور ہر جگہ سنائی دیتا ہے مگر اسلامی حالات کے لئے سنجیدہ کوشش کہیں بھی نہیں کی گئی۔ ۲۱ جولائی ۱۹۹۲ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۲۱ محرم ۱۴۱۳ھ ، یکم جولائی ۱۹۹۲ ء) میں سنغال کے وزیر الاعلام والاتصالات مختار کسیبی کا انٹرویو چھپا ہے۔ اس انٹرویو کو اس کے نمائندہ خالد سید باحکم نے مدینہ میں ریکارڈ کیا۔ اس کا عنوان ہے: الصحوة الاسلامية هى مستقبلنا۔ ایک سوال کے جواب میں موصوف نے کہا کہ صحوہ اسلامیہ ملت اسلامی کا مستقبل ہے ۔ آج یہ صحوہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہے ۔ (الصحوة الاسلامية هي مستقبل الامة الاسلامية، وان هذه الصحوة تعم العالم كله۔) صحوہ اسلامیہ سے مراد خاص طور پر موجودہ مسلم نوجوانوں کی وہ سرگرمیاں جو آجکل تقریباً ہر اس ملک میں نظر آتی ہیں جہاں مسلمان آباد ہیں۔ یہ مسلم نوجوان زیادہ تر اس احساس کے تحت اٹھے ہیں کہ دوسری قوموں نے یا ان کے آلا کار کے طور پر خود اپنی قوم کے کچھ لوگوں نے ان کی عظمت اور ان کے مقام کو ان سے چھین رکھا ہے۔ یہ عظمت و مقام اُن کو دوبارہ اِن غاصبین سے واپس لینا ہے۔ اس تصور کے زیر اثر یہ مسلم نوجوان ساری دنیا میں مفروضہ دشمنانِ اسلام سے مسلح یا غیر مسلح لڑائی لڑنے کے لئے نکلے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کو ایک تشتد دینا وا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page