ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگجو مذہب سمجھا جانے لگا۔ اسلام سراسر رحمت کا دین ہے۔ مگر موجودہ قسم کی صحن کی صفن نے اسلام کو عداوت کا مذہب بنا دیا ہے۔ اس قسم کی صحوة اسلام کے مستقبل کی تعمیر میں رکاوٹ ہے نہ کہ اس میں مددگار اور معاون۔ ۲۲ جولائی ۱۹۹۲ قرآن کی ایک آیت میں کہا گیا ہے کہ کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے عہد توڑ دئے اور انھوں نے رسول کو نکالنے کی جسارت کی اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ میں پہل کی (لا تقاتلون قوماً نكثوا ايمانهم وهم باخراج الرسول وهم بدؤكم اول مرق ، التوبه ۱۳) اس آیت کے بارہ میں میں نے تمام تفسیریں پڑھیں۔ برسوں تک غور کیا۔ آخر میں جو سمجھ میں آیا اس کو یہاں لکھتا ہوں۔ اگر چہ حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ اس آیت میں تین چیزوں کا ذکر ہے۔ اس طرح کی چیزوں کے ذکر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کو تاریخی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ موضوع کے اعتبار سے ان کو ترتیب دیا جائے۔ یہاں تاریخی ترتیب کو چھوڑ کر تینوں باتوں کو موضوع کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ نکثوا ایمانهم میں معاہدہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کا ذکر ہے جو ۵۸ ھ میں پیش آیا۔ وهم باخراج الرسول میں جبری طور پر ترک وطن کا ذکر ہے جو ہجرت کے پہلے سال واقع ہوا۔ وهم بدؤکم اول مرة سے غزوہ بدر اولی مراد ہے جو ۲ ھ میں پیش آیا۔ ۲۳ جولائی ۱۹۹۲ جامعہ ہمدرد (نئی دہلی) کی طرف سے ایک دعوت نامہ ملا ہے۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ کو ان کے یہاں ایک ٹاک (talk) ہے۔ اس کا موضوع ہے ۔ قرآنی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق : Rights of minorities in a Quranic state. اس موضوع پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس طرح کے معاملات میں شریعت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader