ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی حتمی قانون نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق حالات پر ہے۔ اسلامی شریعت میں ایک مستقل قانونی اصول وہ ہے جس کو عرف کہا جاتا ہے۔ عرف کا تعلق صرف شخصی امور سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق وسیع تر قومی اور بین اقوامی امور سے بھی ہے۔ اس قسم کے معاملات میں رہنما اصول یہ ہے کہ دفعات شریعت کے بجائے مقاصد شریعت کو دیکھا جائے۔ جس طرح اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیت کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح غیر مسلم ریاست میں مسلم اقلیت کا مسئلہ ہے۔ اس طرح یہ مسئلہ دو طرفہ ہے۔ ایسی حالت میں احسن طریقہ یہ ہے کہ اسٹیلیتوں کے معاملہ میں دونوں جگہ انٹرنیشنل عرف پر عمل کیا جائے۔ عرف custom کا تعلق ان امور سے ہے جن کا تعلق ایک سے زیادہ اشخاص سے ہو ۔ اجتماعی معاملات میں عرف چونکہ عمومی طور پر چیز ہوتی ہے ، اس لئے معاملہ کا ہر فریق اس کو با آسانی مان لیتا ہے۔ مثلاً جز یہ موجودہ زمانہ میں ایک غیر معروف قاعدہ ہے۔ اور ٹیکس معروف قاعدہ ۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں کسی اسلامی حکومت میں غیر مسلم اقلیت پرٹیکس عائد کیا جائے گانہ کہ جزیہ ۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ قرآن میں اہل شرک سے قتال کرنے کا حکم ہے۔ (التوبہ (۵) اور اہل کتاب کے بارہ میں حکم ہے کہ ان کو صاغر بنا کر ان سے جزیہ وصول کرو۔ (التوبہ (۲۹) جمہور اہل علم نے پہلے حکم کو دور رسالت کے مشرکین عرب کے لئے خاص کیا ہے۔ مگر جزیہ کے حکم کو عام قرار دیا ہے اور نہ صرف اہل کتاب بلکہ دوسری قوموں تک اس کو وسیع کیا ہے۔ میرے خیال سے اس تفریق کی کوئی وجہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جزیہ کے حکم کا تعلق بھی اصلی عرب کے اہل کتاب سے تھا جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دعوت پہنچی تھی۔ یہ اللہ تعالی کی ایک سنت ہے کہ پیغمبر براہ راست مخاطبین اگر آخر وقت تک انکار کریں تو وہ عذاب کے مستحق قرار پاجاتے ہیں۔ چنانچہ اہل شرک پر یہ عذاب صحابہ کی تلواروں کے ذریعہ آیا۔ (التوبہ (۴۱) اس وقت کے اہل کتاب کے لئے قتال کے بجائے جزیہ کا حکم دیا گیا۔ جزیہ کا بطود سزا ہونا اس سے ثابت ہے ۔ مکر آیت میں حکم جزیہ کے اور یہ لفظ مکر رہو صاغرین ( التوبہ (۲۹)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader