Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب محمد حسین کھتری سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بیسمنٹ میں کیمیکل اسٹرکاری chemical grouting کا کام کرتے ہیں۔ وہ بمبئی میں پیری روڈ پر رہتے ہیں ۔ وہاں قریب میں کوئی مسجد نہ تھی ۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے مشورہ سے طے کیا کہ یہاں ایک نئی مسجد بنائیں ۔ قریب میں ایک پارسی اپنا مکان بیچ رہا تھا ۔ اس سے یہ بات ہوئی ۔ وہ ۶۰ لاکھ روپیہ میں سودا کرنے پر راضی ہوا۔ اب محمد حسین کھتری اور ان کے ساتھی چندہ کے لئے نکلے :۔ دوڑ دھوپ کے بعد ۱۸ لاکھ روپیہ جمع ہوا ۔ اس کے بعد ایک شخص ان کو یوسف پٹیل کے پاس لے گیا ۔ وہ پہلے اسمگلر تھے ، اب بلڈنگ کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں۔ یوسف پٹیل نے پورے ۶۰ لاکھ روپے اپنے پاس سے دے دئے ۔ اور کہا کہ آپ زمین خرید لیں اور جو رقم آپ نے جمع کی ہے اس کو مسجد کی تعمیر میں لگائیں۔ یوسف پٹیل جیسے مسلمان ہندوستان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ہندوستان کے مسلمان اگر چاہیں تو وہ ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر سکتے ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ پیسہ والے مسلمان صرف مسجد اور مدرسہ جیسے روایتی کاموں میں پیسہ دیتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی شخص دعوتی منصوبہ میں مالی تعاون کے لئے آمادہ نہیں ہوتا۔ ۲۶ جولائی ۱۹۹۲ اسلامی فقہ کا ایک کلیہ ہے کہ چیزوں میں اصل ان کا مباح ہونا ہے (الاصل في الاشیاء الاباحة)، اس سے اسلامی شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے ۔ اسلامی شریعت کا مقصد انسان کو قوانین میں جکڑنا نہیں ہے بلکہ کچھ بنیادی حقوق مقرر کر کے بقیہ امور میں اس کو آزاد سی دے دینا ہے۔ قوانین کی کثرت قوانین سے انحراف کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ یہ انحراف یا تو سرکشی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یا منافقت کی صورت میں ۔ اس لئے اسلام نے قوانین کی قلت کا اصول اختیار کیا ہے جو بہرحال اول الذکر کے مقابلہ میں اہون ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page