ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
قاہرہ کے ایک عرب نوجوان اعلیٰ حسنی احمد ملاقات کے لئے آئے۔ وہ اخوانی مزاج کے تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ الاخوان المسلمون کی یہ غلطی تھی کہ وہ اول روز سے سیاست میں داخل ہو گئے ۔ انھیں سب سے پہلے علم اور فکر کے میدان میں کام کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کی علیحدگی ممکن نہیں۔ اخوانیوں نے مصر میں تعلیمی ادارے بھی قائم کئے ۔ مگر حکمرانوں نے ان تعلیمی اداروں کو چلنے نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ یہ سوچئے کہ اسی مصر میں جمال عبد الناصر اور انور سادات سے پہلے بھی تعلیمی ادارے قائم تھے اور حکمرانوں نے کبھی ان پر روک نہیں لگائی۔ حالانکہ آپ حضرات کے بیان کے مطابق وہ حکمران بھی غیر اسلامی حکمران تھے۔ نیز خود جمال عبد الناصر اور انور سادات کے زمانہ میں دوسرے علما اسی مصر میں تعلیمی ادارے چلاتے رہے اور حکومت نے ان کے ادارے بند نہیں کئے ۔ میں نے کہا کہ تعرف الاشیاء باضدادھا کے مطابق اس فرق پر غور کیجئے تو اصل بات سمجھ میں آئے گی ۔ اصل یہ ہے کہ اخوانی اپنے نظریہ کے مطابق اول دن سے حکمرانوں کے حریف بن گئے ۔ اپنے تعلیمی اداروں کو بھی انھوں نے اپنی مخالفانہ سیاست کا مرکز بنا دیا۔ اس بنا پر حکمراں بھی ان کے مخالف بن گئے۔ اگر اخوانی مخالفانہ سیاست سے بے تعلق خالص تعلیم اور فکری تربیت کے لئے ادارے چلاتے تو کبھی حکومت ان سے تعرض نہ کرتی ۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۲ عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں ابو موسیٰ اشعری نے انھیں لکھا کہ آپ جو خطوط بھیجتے ہیں ان پر تاریخ نہیں ہوتی۔ اس لئے دشواریاں پیدا ہوتی ہیں ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں صحابہ کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ اس معاملہ میں کیا کیا جائے۔ اس زمانہ میں عرب میں قمری مہینوں کا رواج تھا ۔ مگر ان کے یہاں عیسوی سن کی طرح کوئی مقرر سن نہ تھا۔ اس لئے طے ہوا کہ کسی واقعہ سے سن کا تعین کیا جائے۔ کسی نے کہا کہ مولد النبی سے سن کا آغاز کیا جائے کسی نے کہا کہ معراج النبی سے سن شمار کیا جائے۔ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader