ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عمر نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے، ہجرت سے اسلامی سن کا آغاز فرمایا۔ اس واقعہ سے اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام ایسا مزاج بناتا ہے جس میں شخصیت (personality) کے بجائے واقعہ event کو اہمیت حاصل ہو۔ جس میں اصل اہمیت حقائق کو دی جائے نہ کہ کسی اور چیز کو۔ ۲۹ جولائی ۱۹۹۲ مسز ستیا پال ایڈوکیٹ (دہلی) نے بتایا کہ پچھلے سال سڑک کے حادثہ میں ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد ان کا آپریشن ہوا۔ آپریشن تھیٹر سے جب دوبارہ وہ اپنے روم میں آئے اور انہیں ہوش آيا تو فوراً انھوں نے نرس سے کہا کہ میرا آپریشن نہیں ہوا۔ آپریشن کب ہوگا ۔ انھوں نے بتایا کہ آپ کا آپریشن ہو چکا ۔ آپ ۲۷ گھنٹہ بے ہوشی کی حالت میں رہے۔ اس طرح کا واقعہ اسپتالوں میں ہر روز ہوتا ہے۔ ۳۰ جولائی ۱۹۹۲ مانو پرلیوار (آصف علی روڈ) کی میٹنگ میں شریک ہوا۔ وہاں مسز ستیا پال ایڈوکیٹ نے خاموشی (silence) پر ایک تقریر کی۔ مجھ سے بھی اظہار خیال کے لئے کہا گیا۔ میں نے کہا کہ خاموشی کا ایک پہلو خالص فلسفیانہ ہے۔ مگر فلسفیانہ پہلو سے قطع نظر میں اس کے عملی پہلو سے متعلق چند بات عرض کروں گا۔ میں نے کہا کہ خاموشی بظاہر ایک سادہ سی چیز ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموش رہنا انتہائی مشکل کام ہے۔ صرف تین قسم کے لوگ خاموش رہ سکتے ہیں (1)، ایک وہ شخص جس کا علم بہت بڑھ جائے۔ علم کی دنیا اتنی وسیع ہے کہ جب علم بڑھتا ہے تو وہ صرف آدمی کے احساس بے علمی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح بے علمی کا احساس آدمی کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے (۲) دوسرا وہ شخص جو دوسرے انسانوں کا بہت زیادہ خیر خواہ ہو۔ (۳) تیسرا سب سے بڑا سبب خوف خدا ہے۔ خوف خدا دراصل اللہ تعالی کی موجودگی کے یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ جس آدمی کو فی الواقع یہ احساس ہو جائے کہ اس کے پاس ہی رب العالمین موجود ہے اور اس کو دیکھ رہا ہے۔ ایسے آدمی کی زبان بند ہو جائے گی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader