ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
بات ہی ہے وہ سراسر جھوٹی بات ہے۔ اس کا حقیقت و واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ کشمیری ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی کے مسلمانوں میں تو صدام نوازی کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ مثلاً آج جامع مسجد کے علاقہ میں بڑے بڑے رنگین پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے : صدام حسین ــــــ آج کا صلاح الدین ایوبی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ آجکل کشمیر میں صدام نوازی کا تقریباً یہی حال ہے۔ میں نے کہا کہ خلیج کے واقعہ نے امریکہ سے زیادہ مسلمانوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ مسلمان سب کے سب ڈبل تھنکنگ میں مبتلا ہیں۔ صدام حسین کی حمایت کرنا گویا might is right کے اصول کی حمایت کرنا ہے۔ جب آپ کویت پر صدام کے فوجی قبضہ کو جائز قرار دیں تو اس کے بعد کس منطق سے آپ کشمیر پر ہندوستانی فوجوں کے قبضہ کو نا جائز قرار دیں گے۔ اور اسی طرح آپ کس منطق سے فلسطین پر یہودیوں کے فوجی قبضہ کو غلط ثابت کریں گے۔ مسلمان ایک طرف فلسطین پر یہودی قبضہ اور کشمیر پر ہندوستانی قبضہ کو غلط بتاتے ہیں۔ دوسری طرف صدام حسین کے کویت پر قبضہ کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے کو برسر حق سمجھتے ہیں۔ ۱۳ فروری ۱۹۹۱ ہندوستان ٹائمس (۲ فروری ۱۹۹۱) میں سوامی ویویکانند سے متعلق ایک مضمون پڑھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح وہ انیسویں صدی کے آخر میں دیوانہ وار امریکہ پہنچے اور وہاں ہندو ازم کی تبلیغ کی۔ اسی طرح اور بہت سے ہندو سوامی ہیں جو اپنے مذہب کی عمومی تبلیغ کے جوش میں یورپ اور امریکہ میں داخل ہو گئے اور لاکھوں لوگوں کو ہندو ازم سے متاثر کیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں مجھے کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اسلامی تبلیغ کے دھن میں یورپ اور امریکہ پہنچے اور وہاں کے لوگوں پر اسلام کی تبلیغ کرے۔ اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader