ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے الفاظ کم ہو جائیں گے۔ اس کا بولنے کا جوش سرد پڑ جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل بناء وبال على صاحبه آلآمالا آلآمالا رہر عمارت اپنے مالک کے لئے وبال ہے، سو اس کے جو ضروری ہو، سو اس کے جو ضروری ہو، مشكوة المصابيح ۱۲۳۲/۳ اسلام میں ایک عمارت مطلوب ہے اور ایک عمارت غیر مطلوب۔ مگر مطلوب عمارت اور غیر مطلوب عمارت میں جو فرق ہے وہ چھوٹی عمارت اور بڑی عمارت، یا کچی عمارت اور پکی عمارت کے اعتبار سے نہیں ہے۔ بلکہ ضروری عمارت اور غیر ضروری عمارت کے اعتبار سے ہے۔ اس دنیا میں ہر وہ چیز جائز ہے جو ضروری ہو۔ اور ہر وہ چیز وبال ہے جو ضروری نہ ہو، اور صرف اسٹیٹس کی خاطر اس کو حاصل کیا جائے۔ یکم اگست ۱۹۹۲ پچھلے دو دن میں دو عرب عالموں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب ریاض کے جامعہ الامام میں استاد ہیں۔ اور دوسرے صاحب جامعہ ام القریٰ میں۔ دونوں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ زیادہ قابل لحاظ بات موجودہ زبوں حالی نہیں ہے۔ بلکہ زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی کو دور کرنے کے لئے کثیر تعداد میں افراد اور جماعتوں نے کوششیں کیں۔ مگر یہ تمام کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں ۔ گویا کہ اصل مسئلہ فقدان عمل کا نہیں ہے بلکہ فقدان نتیجہ عمل کا ہے۔ ایک صاحب سے خیر و صدا کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ قرآن میں ایک طرف شدت کے ساتھ بتایا گیا کہ سب کچھ خدا ہی کی طرف سے ہے۔ اسی کا تہدید کا کا اختیار حاصل ہے۔ دوسری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader